رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل دو پاکستانیوں کو ہیٹی میں ایک 14 سالہ لڑکے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عالمی تنظیم کی ایک خاتون ترجمان نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی فوجی عدالت کے دو جج اس مقدمے کی سماعت کے لیے ہیٹی پہنچے تھے جہاں اُنھوں نے گزشتہ ہفتے اس کا فیصلہ سنایا۔

’’پاکستانی عہدے داروں نے مقدمے کے فیصلے سے اقوام متحدہ کو گزشتہ ہفتے مطلع کیا تھا، لیکن ہیٹی میں تنظیم کے امن مشن کا عدالتی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں رہا جس کی قیادت پاکستان سے آنے والے ججوں نے کی۔‘‘

دونوں پاکستانی فوجی شمالی شہر گوناایوز میں تعنیات تھے جہاں اُنھوں نے 20 جنوری کو اس جرم کا ارتکاب کیا تھا اورعدالت میں اُن پر اس بد فعلی کا الزام ثابت بھی ہو گیا۔

دونوں فوجیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے اور اُنھیں پاکستانی فوج سے برخواست کرنے کے بعد اپنے ملک میں ہی ایک سال کی سزا کاٹنے کے لیے قید کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ہیٹی میں تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن کے ارکان پر ملک کے اندر مقدمہ چلا کر اُنھیں سزا سنائی گئی ہے۔

ہیٹی میں عالمی تنیظم کے اس مشن کی ساکھ کے حوالے سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اس کے بعض ارکان پر الزام ہے کہ اُنھوں نے زلزلے سے متاثرہ اس ملک میں 2010ء میں ہیضہ کی ایک مہلک وبائی قسم متعارف کرائی تھی۔

کئی دیگر امن فوجیوں پر زنا بالجبر کے الزامات لگائے گئے ہیں جس نے ملک میں عوامی احتجاج کو ہوا اور ان مطالبات میں اضافہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی فوج کے ارکان کو حاصل استثنیٰ سے محروم کر کے اُن پر ہیٹی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔

ہیٹی کے وزیرِ انصاف نے دو پاکستانیوں کے خلاف عدالتی فیصلے کو درست سمت میں ایک ’’چھوٹا‘‘ قدم قرار دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی فوجی عدالت کے بارے میں حکومت کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

’’ہم اقوام متحدہ اور حکومتِ پاکستان سے اس سے زیادہ کی توقع کر رہے تھے لیکن اب ہماری توجہ کا مرکز جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے کی مناسب دیکھ بھال ہو گی۔‘‘

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG