رسائی کے لنکس

وزارت دفاع نے اپنی ایک درخواست میں ملک کے ایک حساس ادارے کے خلاف بغیر شواہد کے الزام عائد کرنے پر جیو کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے "پیمرا" نے جمعہ کو وزارت دفاع کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نجی ٹی وی چینل "جیو نیوز" کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل اور ادارے پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔

19 اپریل کو جیو نیوز کے سینیئر میزبان حامد میر پر کراچی میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد اس چینل پر فوج کے انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کو مبینہ طور پر اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا۔

وزارت دفاع نے پیمرا میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں ملک کے ایک حساس ادارے کے خلاف بغیر شواہد کے الزام عائد کرنے پر جیو کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔
​پیمرا نے اس درخواست پر قائم مقام چیئرمین پرویز راٹھور کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں چینل کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کرنے اور ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں لائسنس کی معطلی جاری رہے گی۔

پیمرا کے بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا جب کہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ مذکورہ ادارے کی طرف سے ضابطے کی دوبارہ خلاف ورزی پر اس کے لائسنس کی منسوخی کی کارروائی بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں پیمرا کی سرکاری کمیٹی کے ارکان شریک تھے جب کہ نجی ارکان نے اس میں شرکت نہیں کی۔

جیو کے صدر عمران اسلم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پیمرا نے یہ فیصلہ سنانے سے قبل اُن کے نشریاتی ادارے کا موقف نہیں سنا۔

’’ابھی ابھی یہ فیصلہ آیا ہے، ہم اس کو دیکھیں گے اور چیلنج بھی کریں گے۔ ایشو یہ ہے کہ اُنھوں نے فیصلہ تو سنا دیا ہے اور وہ (پیمرا) چاہ رہا ہے کہ فوری طور پر جہاں بھی جیو چلایا جا رہا ہے اُس کو بند کر دیا جائے۔‘‘

پاکستان میں ایک انگریزی روزنامے ’ایکسپریس ٹربیون‘ کے ایڈیٹر محمد ضیا الدین کہتے ہیں کہ پیمرا کے اس فیصلے پر کئی حلقوں کو اعتراضات ہو سکتے ہیں کیوں کہ اس ادارے کی ساخت اور اس پر حکومت کے اثر کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے رہیں ہیں۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں ذمہ دارانہ صحافت کی اشد ضرورت ہے۔

’’براڈ کاسٹ میڈیا میں آپ کو فوراً رپورٹ کرنی پڑتی ہے اور اسی وقت آپ کو فوری تجزیہ کرنا پڑتا ہے اور ایک ایسی آبادی کے لیے جہاں 60 فیصد لوگ پڑھے لکھے نا ہوں وہاں پر قواعد وضوابط بہت ضروری ہیں۔ آزادی ہو میں کہتا ہوں کہ آزادی پوری ہو، لیکن ایک نگران ادارہ ہو جو مضبوط اور آزاد ہو جس کا فیصلہ سب مانیں۔‘‘

اُدھر وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے قومی اُمور عرفان صدیقی نے کہا کہ وہ پیمرا کے فیصلے پر تو کسی طرح کا تبصرہ نہیں کرنا چاہتے تاہم اُن کا کہنا تھا کہ جیو اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

’’حکومت کے لیے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی وہ دن زیادہ خوشی کا دن نہیں ہو گا جب پریس پر کسی بھی طرح کی کوئی قدغن لگے، چاہے تھوڑے عرصے کے لیے لگے یا زیادہ عرصے کے لیے لگے کیونکہ پریس کی آزادی کی ایک تاریخ ہے ۔۔۔۔ موجودہ حکومت اس کا بہت احترام کرتی ہے اور وہ یہ محسوس کرتی ہے کہ شاید حالیہ دنوں کے اندر ایسی ایک فضا پیدا ہوئی کہ خود میڈیا نے بعض حدود سے تجاوز ضرور کیا یہ ایک چینل تک محدود بات نہیں ہے اس کا دائرہ بڑا وسیع ہے ۔۔۔ کیوں کہ پیمرا کے پاس اور بھی بہت سی شکایات ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اگلے دنوں میں وہ ان شکایات کا بھی جائزہ لیں۔‘‘

عرفان صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم نے اُن کی سربراہی میں ذرائع ابلاغ کے ضابطہ اخلاق سے متعلق ایک کمیٹی بھی قائم کر رکھی ہے اور وہ تمام فریقوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں جنگ اور جیو میڈیا گروپ نے اپنے صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد فوج اور اس کے انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر الزام سے متعلق اپنی نشریات پر معافی مانگی تھی۔

ادارے نے اپنے انگریزی اور اردو روزناموں میں شائع کیے گئے اپنے معافی نامے میں تسلیم کیا تھا کہ صحافی حامد میر پر حملے کے بعد جیو نشریات ’’متجاوز، پریشان کن اور جذباتی‘‘ تھیں۔

’’ان نشریات سے آئی ایس آئی بطور ادارہ، اس کے ڈائریکٹر جنرل ظہیرالاسلام، ان کے اہل خانہ اور مسلح افواج سے وابستہ تمام افراد اور ہمارے ناظرین کی بڑی تعداد کو جو دکھ پہنچا، اس پر ہم ان سب سے خلوص دل کے ساتھ معافی کے خواستگار ہیں۔‘‘

حالیہ ہفتوں میں جیو نیٹ ورک کی پریشانی میں اُس وقت اضافہ ہو جب ’جیو انٹرٹینمنٹ‘ کے پروگرام میں مقدس شخصیات سے متعلق متنازع پروگرام نشر کیا، جس پر بعد میں پروگرام کی میزبان شائستہ لودھی نے اسے ’نادانستہ‘ غلطی قرار دیتے ہوئے معذرت بھی کی تھی۔

تاہم مبینہ توہین آمیز پروگرام پر جیو کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہروں میں اس نشریاتی ادارے کے بند کرنے کے مطالبے کیے گئے جب کہ جنگ اور جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمٰن اور پروگرام کی میزبان شائشتہ لودھی کے خلاف توہین اسلام اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مختلف تھانوں میں شکایات بھی درج کرائی گئیں۔

اُدھر جنگ اور جیو نیوز کو غدار کہنے پر اس نشریاتی ادارے نے وزارت دفاع، آئی ایس آئی اور پیمرا کو 50 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے۔ تاہم وزارت دفاع یا دیگر مذکورہ اداروں کی طرف سے اس بارے میں کسی طرح کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG