رسائی کے لنکس

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی دفاع اور سلامتی کے ذمّہ دار ادارے کی حیثیت سے مسلّح افواج کی ساکھ اور احترام کا خیال رکھنا حکومت کی ذمّہ داری ہے۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے ’پیمرا‘ نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی حالیہ مبینہ اشتعال انگیز تقریر کو براہ راست نشر کرنے پر 14 ٹیلی ویژن چینلز کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

اُدھر وزیراعظم نواز شریف نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ الطاف حسین کی معذرت ایک بہتر اقدام ہے مگر ملکی سلامتی اور قومی مفاد سے تعلق رکھنے والے معاملات نہایت حسّاس ہوتے ہیں اور ایسے معاملات کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے اچھی طرح سوچنا سمجھنا چاہئیے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس طرح کے غیر محتاط بیانات نہ صرف قومی اداروں کے وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ان سے عوام کے جذبات اور احساسات کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملکی دفاع اور سلامتی کے ذمّہ دار ادارے کی حیثیت سے مسلّح افواج کی ساکھ اور احترام کا خیال رکھنا حکومت کی ذمّہ داری ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میڈیا کو بھی ملکی آئین اور قانون کے مطابق ضابطہ اخلاق کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے آئندہ اس امر کو یقینی بنانا چاہیئے کہ غیر ذمّہ دارانہ اور قومی مفاد کے منافی بیانات کی تشہیر نا ہو۔

پیمرا نے اپنے نوٹس میں ٹیلی ویژن چینلز کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے فوری طور پر ایسا طریقہ کار وضع کریں اور لائسنس کے مطابق ’ڈیلے ڈیوائس‘ لگائیں تاکہ نشریات کو کچھ توقف کے ساتھ نشر کیا جائے۔

پیمرا نے اپنے آرڈیننس کی سیکشن 27 کے تحت تمام نشریاتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ایسے پروگرام یا انٹرویو نشر نا کریں جو ملک کی سلامتی، فوج اور عدلیہ کے خلاف نفرت پر مبنی ہوں۔

الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے کہا گیا کہ ان ہدایات پر عمل درآمد نا کرنے پر نشریاتی ادارے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

پاکستان کے ایک سیئنیر صحافی محمد ضیا الدین کا کہنا تھا کہ ’ڈیلے ڈیوائس‘ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کے نشریاتی اداروں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی خاص تقریر کے ردعمل میں ہی پیمرا کو اپنے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کا خیال نہیں آنا چاہیئے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی طر ف سے الطاف حسین کے بیان پر ردعمل میں کہا گیا تھا کہ عسکری قیادت کے خلاف اس طرح کے بیان کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

دریں اثناء ہفتہ کو بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں الطاف حسین کے فوج سے متعلق بیان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔

اُدھر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ اُن کی تقریر کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پڑھا گیا ہے۔

بیان میں اُن کا کہنا تھا اُن کے بیان کا مقصد کسی محترم ادارے یا حکومت کی توہین کرنا ہرگز نہ تھا۔

XS
SM
MD
LG