رسائی کے لنکس

صدر آصف علی زرداری نے بھارت کے وزیرِ اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر پاکستانی ڈاکٹر خلیل چشتی کو رہا کرکے اُنھیں وطن واپس جانے کی اجازت دے دیں۔

ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ صدرِ پاکستان نے بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کو ذاتی طور پر لکھے گئے ایک خط کے ذریعے یہ اپیل کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صدارتی خط مسٹر سنگھ تک پہنچانے کے لیے نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔

صدر زرداری نے خط میں لکھا ہے کہ 8 اپریل کو بھارتی وزیرِ اعظم کے ساتھ نئی دہلی میں ملاقات میں بھی اُنھوں نے ڈاکٹر چشتی کی رہائی کا معاملہ اُٹھایا تھا۔

’’میں جانتا ہوں کہ ڈاکٹر چشتی کی رحم کی اپیل اس وقت بھارت کی حکومت کے زیرِ غور ہے۔ ڈاکٹر چشتی کی ضعیف العمری اور ان کی خرابی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اُن کی انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہائی اور وطن واپسی کے معاملے پر آپ (وزیرِ اعظم سنگھ) سے مداخلت کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘

پاکستانی صدر نے کہا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم کے مثبت ردعمل سے خیر سگالی کے اُس جذبے کو تقویت ملے گی جو دوطرفہ جامع مذاکرات کی بحالی کے بعد پروان چڑھا ہے۔

ڈاکٹر چشتی جامعہ کراچی کے شعبہ مائیکرو بیالوجی سے وابستہ تھے اور مارچ 1992ء میں اپنی علیل والدہ کی تیمار داری کے لیے بھارتی شہر اجمیر گئے جہاں خاندانی جھگڑے میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد اُنھیں دیگر افراد سمیت قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔

بھارت کی ایک عدالت نے اُن کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی لیکن اسے بھی خارج کر دیا گیا۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے 20 سال سے ملک میں قید اس 80 سالہ پاکستانی شہری کی ضمانت کی درخواست گزشتہ پیر کو منظور کی تھی۔

XS
SM
MD
LG