رسائی کے لنکس

اگست کا مہینہ: پیپلزپارٹی کے لئے کڑا امتحان ثابت ہوا


اگست کا مہینہ: پیپلزپارٹی کے لئے کڑا امتحان ثابت ہوا

اگست کا مہینہ: پیپلزپارٹی کے لئے کڑا امتحان ثابت ہوا

اگست کا مہینہ کراچی میں ہونے والی بدامنی کے سبب حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کیلئے انتہائی کڑا امتحان ثابت ہوا ۔ ایوان صدر، وزیر اعلیٰ و گورنر ہاؤس کراچی میں ایک جانب تو اجلاس پہ اجلاس ہوتے رہے تو دوسری جانب شہرمیں قتل و غارت گری کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان نے جو خواب دیکھا تھا وہ بھی وقت کے ہاتھوں جھوٹانکلا۔ سندھ حکومت اتنا الجھ گئی کہ بار بار فیصلے تبدیل کیے گئے۔ پیپلزپارٹی نے جتنی ایم کیو ایم کے قریب آنے کی کوشش کی، شہرکے حالات نے اتنے ہی فاصلے بڑھا دیئے۔

کراچی کی بدامنی کا مفاہمتی پالیسی سے مقابلہ

دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد سے ہی کراچی کی صورتحال رفتہ رفتہ خراب ہونا شروع ہوگئی تھی تاہم اگست دو ہزار گیارہ میں رمضان المبارک کے باوجود شہر میں بد امنی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا اور بڑے پیمانے پر شہر یوں کو اغواء کے بعد بوری بند لاشیں برآمد ہونے لگیں۔ اس تمام تر صورتحال میں تاجر برادری ، علماء اور متعدد سیاسی و قوم پرستوں کی جانب سے شہر میں فوج طلب کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا لیکن صدر زرداری نے مفاہمتی پالیسی سے ہی اس کا مقابلہ کرنا چاہا جس میں وہ، مبصرین کے مطابق، بری طرح ناکام نظر آئے ۔

سرکاری ملاقاتیں

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے چار ملاقاتیں کیں ، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی گورنر سندھ سے ملاقات کی ، صدر نے الطاف حسین سے ایک مرتبہ جبکہ وزیراعظم نے دو مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا تاہم اس کے باوجود شہر میں بدامنی پھیلتی چلی گئی اور ہرروز کسی نہ کسی کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

اجلاس پہ اجلاس

ایوان صدر میں تین مرتبہ سندھ کے وزراء کو طلب کیا گیا اور اہم اجلاس منعقد ہوئے ، وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے تین اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی مشترکہ صدارت کی ، ایک اجلاس گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیر اعلیٰ کی مشترکہ صدارت میں ہوا جبکہ ایک مرتبہ وزیراعظم نے کراچی میں سندھ کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی لیکن اس کے باوجود شہری امن کو ترستے رہے ۔

منظور وسان کا خواب۔۔ادھورہ

صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان نے یوم آزادی کے موقع پر مزار قائد پر قوم کو اپنے خواب سے آگاہ کیا کہ ایم کیو ایم چار پانچ دنوں میں حکومت میں شامل ہو جائے گی لیکن مضبوط روابط کے باوجود کراچی کے سنگین حالات کی وجہ سے سولہ دنوں بعد بھی اس خواب کی کوئی تعبیر نظر نہیں آ رہی ۔ اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے پیش گوئی کی تھی کہ ایم کیو ایم اور پی پی عید اکٹھے منائیں گے لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا ۔

اسمبلی کے فلور پر ۔۔۔

قومی اسمبلی میں بھی کراچی کی صورتحال کی بہتری کے لئے سیاسی جماعتیں متحد نہ ہو سکیں ، کراچی کی صورتحال پر بحث کے دوران مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے کبھی ایم کیو ایم علامتی واک آؤٹ کرتی نظر آئی تو کبھی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے پر سیاسی حملے کرتے رہے ، اے این پی کے وزراء بھی احتجاج کرتے رہے ، ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی بدامنی میں ملوث 500 گینگسٹرز کی فہرست قومی اسمبلی میں پیش کی گئی جس کے بعد بلوچستان اور کراچی کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے سترہ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو عید کے بعد اپنا کام شروع کرے گی ۔

کمشنری اور ضلعی نظام کا جھگڑا

اس تمام تر صورتحال میں پیپلزپارٹی کراچی میں بد امنی اور دیگر وجوہات کے باعث شدید بوکھلاہٹ کا شکار نظر آئی ، چھ اگست کو ایم کیو ایم کے مطالبے پر کراچی اور حیدر آباد میں دو ہزار ایک کا بلدیاتی نظام بحال کر دیا تاہم سندھ کے دیگر شہروں میں کمشنری نظام برقرار رکھا جس پر قوم پرستوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید دباؤ سامنے آیا اور اسے سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا ۔ تین روز بعد ہی حکومت سندھ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے پورے سندھ میں شہری و ضلعی حکومتوں کے نظام کی بحالی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ۔

حکومت کے بار بار بدلتے فیصلے

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی جلد بازی میں آٹھ اگست کو اعلان کر دیا کہ کراچی میں پرانے اسلحہ لائسنس 31 اگست کو منسوخ کر دیئے جائیں گے تاہم اگلے ہی دن اسلحہ لائسنس کی تجدید کی تاریخ میں 30 ستمبر تک کی توسیع کر دی گئی ۔ 23 اگست کو شر پسند اور بھتہ خور وں کو حکومت سندھ نے اعلامیہ میں وارننگ دی کہ وہ ایسی کارروائیاں بند کر دیں اور کراچی چھوڑ دیں ورنہ انہیں نشان عبرت بنا دیا جائے گا لیکن ابھی اس کی سیاہی بھی نہ خشک ہو پائی تھی کہ ایک اور اعلامیہ سامنے آ گیا جس میں بھتہ خور کراچی چھوڑ دیں کے الفاظ حذف کرا دیئے گئے۔

اسی طرح 25 اگست کو وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلامیہ جاری ہوا تاہم ایک گھنٹے بعد وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے اس کی تردید کر دی۔ اس کے علاوہ لیاری میں آپریشن کے خلاف آپریشن کے دوران بھی مقامی افراد کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کیا گیا جس کے باعث آپریشن ملتوی کرنا پڑا اور جب دوبارہ آپریشن کا آغاز کیا گیا تو سابق صوبائی وزیر داخلہ بھی اس فیصلے پر سخت مشتعل نظر آئے اور ایم کیو ایم پر الزام تراشی کر کے صدر آصف علی زرداری کی ایم کیو ایم کے قریب ہونے کی کوشش کو سبو تاژ کر دیا۔

XS
SM
MD
LG