رسائی کے لنکس

سینیئر رہنما مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ اپنے دور حکومت میں ملک میں افراط زر کو دس فیصد کی سطح سے نیچے لایا گیا جب کہ برآمدات اور ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

پاکستان میں منتخب اسمبلیاں 16 مارچ کو اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے جارہی ہیں اور مئی میں متوقع انتخابات کے لیے تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں عوامی رابطوں میں ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے پوری طرح سے میدان میں اترنا شروع ہوگئی ہیں۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی جمعرات کو اپنے انتخابی منشور کا اعلان کردیا ہے جس میں اپنی حکومت کے پانچ سالہ دور کی کامیابیوں کو شمار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے ملک و قوم کی فلاح و ترقی کے لیے اعلانات کیے گئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما مخدوم امین فہیم نے دیگر پارٹی عہدیداروں کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی جماعت کے منشور کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے دور حکومت میں ملک میں افراط زر کو دس فیصد کی سطح سے نیچے لایا گیا جب کہ برآمدات اور ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

امین فہیم نے کہا کہ پہلی بار مفاہمت اور اتفاق رائے کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط کیا گیا اور ملک میں پہلی بار پرامن انداز میں حکومت کی تبدیلی عمل میں آرہی ہے۔ ان کے بقول پائیدار اور مستحکم جمہوریت کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

پیپلز پارٹی کے منشور میں ’’روٹی، کپڑا اور مکان۔۔۔علم، صحت اور روزگار سب کے لیے‘‘ کا اعلان کیا گیا۔ خواتین، اقلیتوں، نوجوانوں اور مستحق افراد کو قومی دھارے میں لانے، کم اجرت کو مرحلہ وار 18 ہزار تک بڑھانے کے علاوہ آئندہ اپنی حکومت کی مدت کے اختتام تک مجموعی قومی پیداوار کا ساڑھے چار فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کا کہا گیا ہے۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن بھی گزشتہ ہفتے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کرچکی ہے۔
XS
SM
MD
LG