رسائی کے لنکس

وزرات خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے عہدیداروں کو اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ ایسی خفیہ نگرانی کی کارروائیاں پاکستان اور امریکہ کے درمیان موجود دوستانہ تعلقات کی روح کے منافی ہے۔

2010 میں اس وقت کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی پر ایک امریکی ادارے کی طرف سے جاسوسی کے میڈیا میں انکشاف پر نواز شریف انتظامیہ نے امریکہ سے احتجاج کرتے ہوئے ایسی کارروائیوں کو عالمی قوانین اور سفارتی اقدار کے منافی قرار دیا ہے.

وزرات خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک پاکستانی سیاسی جماعت پر ایسی نگرانی حیران کن ہے اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے عہدیداروں کو اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ ایسی خفیہ نگرانی کی کارروائیاں پاکستان اور امریکہ کے درمیان موجود دوستانہ تعلقات کی روح کے منافی ہے۔

’’دوستانہ تعلقات اور تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم امریکہ پر زورد دے چکے ہیں کہ وہ ایسی کارروائیاں روکے۔‘‘

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’’ہم ماضی میں یہ مسئلہ امریکہ کے سامنے اٹھا چکے ہیں اور اس پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس بارے میں کیا اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن میں اتنی بات کی تصدیق کر سکتی ہوں کہ یہ مسئلہ دوبارہ اٹھایا جائے گا۔‘‘

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی طرف سے جماعت کی جاسوسی کرنے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک خود مختار ملک کے اندرونی معاملات میں غیر ضروری اور سنگین نوعیت کی مداخلت سے تشبیہ دی۔

پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات اور کارروائیاں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لیے خطرہ اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہیں۔

’’اگر آپ (امریکہ) اپنی خود مختاری اور قومیت پر انحصار کرتے ہیں اور یہ آپ کا حق ہے کہ آپ اپنے مفادات کو دیکھیں مگر دوسروں کی عزت نفس کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر اپنے اتحادیوں اور ہر ایک کو دہشت گرد سمجھیں گے تو پھر اس کا مطلب امریکہ بڑے خوف و فوبیا میں زندگی گزار رہا ہے۔ تو اس صورتحال میں تو تعلقات کسی سے اچھے نہیں رہتے۔‘‘

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2010 میں بیرون ملک خفیہ نگرانی سے متعلق امور کے لیے بنائی گئی عدالت نے دنیا بھر میں جاسوسی کی کارروائیوں میں اضافے کی اجازت دی تھی۔

ایک امریکی ادارے کے مطابق اس پروگرام سے واشنگٹن کو ان کے بقول جلد اور موثر خفیہ معلومات حاصل ہوئیں اور ان افراد کی نشاندہی میں مدد ملی جو کہ عالمی دہشت گردی میں ملوث ہیں مگر اس سے پہلے ان کے بارے میں یہ معلومات نا تھیں۔

XS
SM
MD
LG