رسائی کے لنکس

اسپیشل اولمپکس میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں جاری اسپیشل اولمپک گیمز میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اب تک سات سونے اور تین کانسی کے تمغے جیت لیے ہیں۔

امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں جاری اسپیشل اولمپکس میں پاکستانی کھلاڑیوں نے سات سونے اور تین کانسی کے تمغے جیت لیے ہیں۔

ان کھیلوں میں پاکستان کا پچاسی رکنی دستہ شرکت کر رہا ہے جن میں کھلاڑی، کوچز اور امدادی عملہ شامل ہے، جبکہ دنیا بھر کے 177 ممالک سے 7,000 کھلاڑی ان کھیلوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

سپیشل اولمپکس کا مقصد ذہنی طور پر معذور افراد کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ اس سال بھی اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز کے موقع پر ذہنی طور پر معذور افراد کو قبول کرنے اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ ان کھیلوں میں شرکت کرنے والے ہر کھلاڑی کو فاتح تصور کیا جاتا ہے۔

جمعرات کو ٹینس کے ڈبلز مقابلوں کے چوتھے ڈویژن میں پاکستان کے احسن انور اور محمد عارف قیوم نے وینزویلا کی ٹیم کے خلاف زبردست کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیت لیا۔

اسپیشل اولمپکس میں تمام کھلاڑیوں کو صلاحیت اور کارکردگی کے لحاظ سے مختلف ڈویژنوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ٹینس کے چار ڈویژن بنائے گئے تھے۔ پاکستان کی ڈبلز ٹینس کی ٹیم کو چوتھے ڈویژن میں رکھا گیا، جس میں بارہ کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

ٹیبل ٹینس کا فائنل راؤنڈ بھی جمعرات کو ہوا۔ پاکستان کے محمد ارحم نے پہلے ڈویژن کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات، سنیگال اور میسیڈونیا کے کھلاڑیوں سے میچوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیت لیا۔

ٹیبل ٹینس کے سنگلز مقابلوں میں جمعرات کو ڈویژن ٹو میں پاکستان کی رقیہ حسن نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

بیڈمنٹن کے سنگلز مقابلوں میں پاکستان کے جہانزیب اقبال نے سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

پاکستان کے کھلاڑیوں نے ایتھلیٹکس میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔ رامیل ارشاد نے 200 میٹر کی دوڑ میں 46 ویں ڈویژن میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ اس ڈویژن میں آٹھ کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

ماروی اظہر نے ایتھلیٹکس کی 400 میٹر دوڑ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

سائیکلنگ کے مقابلے لاس اینجلس سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع لانگ بیچ پر منعقد ہوئے۔ ایک کلومیٹر کی سائیکلنگ ریس میں پاکستان کی عظمیٰ یوسف اول نمبر پر رہیں اور گولڈ میڈل حاصل کیا، جبکہ اسی ریس میں خدیجہ عرفان نے تیسری پوزیش حاصل کر کے کانسی کا تمغہ جیتا۔ جبکہ چاندی کا تمغہ مراکش کی الھادی صفا کے حصے میں آیا۔

اس سے قبل بدھ کو عاصم زر نے تیراکی کی 100 میٹر فری سٹائل مقابلے کے 14 ویں ڈویژن میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

اقصیٰ احمد جنجوعہ نے تیراکی کی پچاس میٹر بیک سٹروک ریس کے دوسرے ڈویژن میں سونے کا تمغہ جیتا۔

اسپیشل اولمپکس کا خیال 1950 کی دہائی میں اس وقت پروان چڑھا جب امریکہ کے سابق صدر جان ایف کینیڈی کی ہمشیرہ یونیس کینیڈی شریور نے ذہنی طور پر معذور نوجوانوں کے لیے سمر ڈے کیمپ کا اہتمام کیا۔ ان کی ایک بہن ذہنی طور پر معذور تھیں۔ پہلے اسپیشل اولمپکس سمر گیمز 1968 میں امریکہ کے شہر شکاگو میں ہوئے۔ یہ کھیل ہر دو سال بعد منعقد کیے جاتے ہیں۔


اسپیشل اولمپکس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لگ بھگ بیس کروڑ افراد ذہنی معذوری میں مبتلا ہیں جو دنیا بھر میں معذوری کے حوالے سے سب سے بڑا گروپ ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ اسپیشل اولمپکس مقابلوں میں شرکت سے ذہنی معذوریوں کے شکار بہت سے لوگوں میں یہ احساس پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے کہ انہیں معاشرے میں قبول کیا گیا ہے اور شامل کیا گیا ہے۔

اسپیشل اولمپکس کے چیئر مین ٹموتھی شریور کہتے ہیں کہ حکومتوں اور غیر سرکاری اداروں کے رہنما ان لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے عزم سے وابستہ ہیں جنہیں اکثر اوقات معاشرے سےخارج کر دیا جاتا ہے۔

اُنھوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ افریقی یونین، عالمی ترقیاتی بینک، کاروباری شخصیات، ممتاز کھلاڑیوں، اور وزراء کی سطح پر ذہنی معذوری رکھنے والے افراد کے لیے بطور خاص تعلیم کے فروغ، دیکھ بھال کے فروغ، اور کھیلوں کے فروغ کے لیے کام کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG