رسائی کے لنکس

رینٹل پاور کیس میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کی استدعا


وزیراعظم راجہ پرویز اشرف

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف

سرکاری میڈیا کے مطابق خط میں وزیراعظم نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے شعیب سڈل کی سربراہی میں کمیشن قائم کریں۔

پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے نام خط لکھا ہے جس میں اُنھوں نے کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق مقدمے میں خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق خط میں وزیراعظم نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے شعیب سڈل کی سربراہی میں کمیشن قائم کریں۔

اُنھوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم وہ ان الزامات کو اس ریاست کی بدنامی سمجھتے ہیں کہ رینٹل پاور کیس میں ’’متواتر منفی اور مفاد پرستانہ پروپیگنڈے سے مجھے مایوسی اور میری دل آزاری ہوئی ہے۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی کمیشن کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق فوری طور پر منظر عام پر لائے جائیں تاکہ ان کی بے گناہی ثابت ہو سکے۔

راجہ پرویز اشرف نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے کبھی قومی احتساب بیورو ’’نیب‘‘ پر براہ راست یا بلواسطہ کسی بھی طرح اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین فصیح بخاری نے رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ میں کرائے کے بجلی گھروں میں بدعنوانی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور دیگر 15 نامزد افراد کے خلاف کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں میں بدعنوانی کے الزامات کی ہونے والی تحقیقات ’’نامکمل اور ناقص‘‘ ہیں۔

بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے 2008ء میں کرائے کے بجلی گھر حاصل کرنے کا منصوبہ شروع کیا، اس وقت راجہ پرویز اشرف کے پاس پانی و بجلی کی وزارت کا قلمدان تھا۔

بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد عدالت اعظمیٰ نے 2010ء میں اس منصوبے سے متعلق تمام معاہدوں کو منسوخ کرکے ملوث افراد کے خلاف نیب کو کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
XS
SM
MD
LG