رسائی کے لنکس

پشاور سے 28 افغان شہری گرفتار

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے مشیر اشتیاق عرمر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صوبے میں قانونی طور پر مقیم افغانوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور جمعرات کو طلوع آفتاب سے قبل پشاور شہر کے مختلف حصوں میں پولیس کی کارروائی میں 28 افغانوں کو حراست میں لیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے چار پشاور میں افغان قونصل خانے کے عملے کا حصہ تھے۔ تاہم تھانے میں منتقل کرنے کے بعد جب اُن کی تصدیق ہو گئی تو پولیس نے قونصل خانے کے عملے کے چاروں افراد کو چھوڑ دیا۔

پشاور میں افغان قونصل جنرل سید محمد ابراہیم خیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُنھوں نے اس بارے میں اسلام آباد میں افغان سفیر جانان موسیٰ زئی کو آگاہ کیا ہے اور وہ یہ معاملہ پاکستانی وزارت خارجہ کے سامنے اُٹھائیں گے۔

تاہم صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے مشیر اشتیاق عرمر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وہ افغان قونصل خانے کے عملے کے افراد کو تحویل میں لیے جانے کے واقعے سے آگاہ نہیں ہیں۔

’’اگر ایسا ہوا کہ اُنھوں (پولیس) نے تصدیق کے بغیر (افغان قونصل خانے کے عملے کو گرفتار کیا ہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘

اشتیاق عرمر کا کہنا تھا کہ صوبے میں قانونی طور پر مقیم افغانوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

’’جن افغانوں کا پاکستان میں اندارج نہیں ہوا ہے اُن کے خلاف ہم کارروائی کر رہے ہیں باقی جن کے کوائف کا اندارج ہے وہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ پشاور انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق بدھ کو صوبائی حکومت نے صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پیش اماموں کو اپنے وطن واپس جانے کے لیے کہا اور اس کے لیے اُنھیں ایک ہفتے کی مہلت دی گئی۔

پاکستان میں مقیم اندارج شدہ افغان پناہ گزینوں کی تعداد لگ بھگ 17 لاکھ ہے جب کہ اتنی ہی بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر بھی افغان پاکستان میں رہ رہے ہیں۔

ملک میں موجودہ افغانوں میں سے زیادہ تر تعداد صوبہ خیبر پختونخواہ ہی میں آباد ہے۔

گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد پاکستان بھر میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جب کہ ملک میں موجودہ غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کے اندارج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔​

XS
SM
MD
LG