رسائی کے لنکس

’ہمارے بچوں کے خون سے ملک میں امن آیا‘

  • شمیم شاہد

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کے بدترین حملے میں ہلاک ہونے والے طالب علموں اور اساتذہ کی دوسری برسی کے موقع پر جمعہ کو پشاور میں تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔

اس موقع پر شہر کی فضا سوگوار رہی، اس سلسلے میں ایک مرکزی تقریب پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں منعقد ہوئی۔

جب کہ تعلیم کے حق میں ایک دھرنا پشاور پریس کلب کے باہر دیا گیا، جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں نے صوبائی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخواہ میں بھی ہر بچے کو مفت تعلیم کی فراہمی کے لیے قانون سازی کی جائے۔

جب کہ ملک کے دفاعی بجٹ میں سے ایک فیصد بجٹ تعلیم کے لیے وقف کر دیا جائے۔

پشاور اسکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے ایک طالب علم کے والد طفیل خٹک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بطور والد اپنے بیٹے کے بچھڑ جانے کا غم تو ہرا ہے لیکن اُن کے بقول اس حملے کے بعد جس طرح دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی اس سے آنے والی نسلوں کو امن نصیب ہو گا۔

’’بہت تلخ دور ہے جو گزر رہا ہے لیکن اطمینان اس بات پر ہو رہا ہے کہ آج اگر آپ پشاور کی سڑکوں پر گہما گہمی دیکھ رہے ہیں اگر آپ پشاور صدر چلے جاتے ہیں شہر کے اندر چلے جاتے ہیں ملک کے اندر چلے جاتے ہیں تو اس دکھ، درد اور غم کے باوجود ایک اطمینان ہے کہ آج جو امن آیا ہوا ہے ہمارے بچوں کے خون کی قربانی کی وجہ سے آیا ہوا ہے۔‘‘

طفیل خٹک کا کہنا تھا کہ پشاور اسکول پر حملے کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خلاف ایک نئی سوچ نے جنم لیا۔

’’اس سانحہ نے دہشت گردوں کی جو سوچ تھی اس کو رد کیا اور لوگوں نے امن کو پسند کیا، میں تو اس بات کو اُس نظریے سے یا اس سوچ سے دیکھتا ہوں کہ ایک انسان کے لیے اس سے زیادہ اطمینان کیا ہو سکتا ہے کہ اگر اس کے بچے ایک ایسی قربانی اس سے (چلے جائیں) جس کی وجہ سے انسانیت کو امن اور سکون حاصل ہو سکتا ہے تو میرے لیے بحیثیت والد ایک انتہائی خوشی اور اطمینان کی بات ہے۔‘‘

دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد حکومت نے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل مرتب کیا، تاہم زیادہ تر سیاسی جماعتیں، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے وابستہ افراد اور سیاسی تجزیہ کار انسداد دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔

سابق سینیٹراور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سرگرم کارکن افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ جب تک قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد نہیں ہوتا تب تک ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

حکومت کی طرف سے ایک مرتبہ پھر اس عزم کو دہرایا گیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

XS
SM
MD
LG