رسائی کے لنکس

پولیو کے ’گڑھ‘ پشاور میں انسداد پولیو مہم پھر ملتوی

  • شمیم شاہد

خیبر پختونخواہ میں حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلیم اللہ خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اتوار کو منعقد کی جانے والی انسداد پولیو مہم کے لیے سکیورٹی ناکافی ہونے کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا

پاکستان کے شمال مغربی صوبے کے مرکزی شہر پشاور میں سکیورٹی کے غیر تسلی بخش انتظامات کی وجہ سے ایک بار پھر انسداد پولیو مہم التوا کا شکار ہوگئی ہے۔

حال ہی میں عالمی ادارہ صحت نے پشاور کو دنیا میں پولیو کا سب سے بڑا گڑھ قرار دیا تھا اور ماہرین متنبہ کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں انسداد پولیو مہم تواتر سے جاری نہ ہرنے کے سبب ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کا ہدف حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

خیبر پختونخواہ میں حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلیم اللہ خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اتوار کو منعقد کی جانے والی انسداد پولیو مہم کے لیے سکیورٹی ناکافی ہونے کی وجہ سے اسے ایک ہفتہ کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

’’پشاور میں سیاسی جماعت کا جلسہ تھا اور جہاں ہائی پروفائل سکیورٹی دینا تھی اس کی وجہ سے پوری یونین کونسلوں کو پوری سکیورٹی ہم نہیں دے سکے اس لیے اب یہ مہم آئندہ اتوار کو ہوگی۔‘‘

صوبائی حکومت کے مطابق حفاظتی ٹیکہ جات کے سہ ماہی پروگرام کے دوران تقریباً آٹھ لاکھ بچوں کو پولیو سمیت دیگر امراض کی حفاظتی ویکسین اور ٹیکے لگائے جائیں گے۔
لیکن پاکستان کو گزشتہ ایک سال میں پولیو وائرس سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی کوششوں میں خاص طور پر مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں انسداد پولیو مہم سے وابستہ رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر شدت پسندوں کے حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اسی بنا پر یہ مہم بارہا تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔

صوبہ خیبرپختونخواہ میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ ماہ شدت پسندوں سے اپیل بھی کی تھی کہ وہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں ان کا ساتھ دیں۔ لیکن اس کے باوجود اس صوبے سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو مہم پر شدت پسندوں کے حملے جاری رہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی جسم کو اپاہج کردینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ دیگر دو ممالک میں نائیجیریا اور افغانستان شامل ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ سال پولیو کے 91 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ سال 2012ء میں سامنے آنے والے متاثرہ کیسز کی تعداد 58 تھی۔

رواں سال اب تک پولیو وائرس سے متاثرہ چار کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اور ان کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے۔

مرکزی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ صوبائی محکموں کے ساتھ مل کر انسداد پولیو مہم کے تسلسل اور ٹیموں کی سکیورٹی سے متعلق ایک موثر لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں۔

دریں اثناء خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ہنگو میں ایک گھر میں ہونے والے بم دھماکے سے کم ازکم چھ بچے ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا ایک کھلونا نما بم کے پھٹنے سے ہوا جب کہ پولیس نے ابتدائی طور پر حاصل ہونے والے شواہد کی روشنی میں کہا ہے کہ یہ دھماکا گھر میں موجود ایک دستی بم کے پھٹنے سے ہوا۔

مرنے والے بچوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG