رسائی کے لنکس

پشاور: بم دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

  • شمیم شاہد

پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نجیب الرحمن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ بم وہاں کھڑی ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا جس میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعہ کی صبح ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم ازکم دو سیکورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق سکیورٹی اہلکار وارسک جا رہے تھے کہ جب ان کی گاڑی پشاور کے نواحی علاقے متھرا کے قریب پہنچی تو وہاں ایک زوردار بم دھماکے کی زد میں آگئی۔

پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نجیب الرحمن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ بم وہاں کھڑی ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا جس میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔

ان کے بقول دھماکے کے لیے چار سے پانچ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ شدت پسند خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو بم دھماکوں سے نشانہ بناتے آئے ہیں۔

ستمبر میں پشاور میں فرنٹیئر کور کے ایک اعلیٰ افسر کی گاڑی پر بھی خود کش حملہ کیا گیا لیکن اس میں وہ خود تو محفوظ رہے لیکن اس واقعے میں کم ازکم چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

نجیب الرحمن ان واقعات کو گزشتہ جون سے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن "ضرب عضب" کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔

"خیبر ایجنسی میں بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور شمالی وزیرستان میں بھی اور اس میں بڑی کامیابیاں ملی ہیں تو یہ اس کا ہی ردعمل ہے۔"

ضرب عضب میں اب تک حکام کے بقول 1200 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جن میں ایک قابل ذکر تعداد غیر ملکی عسکریت پسندوں کی بتائی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG