رسائی کے لنکس

پشاور میں مسلح افراد کی فائرنگ سے تین سکیورٹی اہلکار مارے گئے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سلامتی کے امور کے تجریہ کار عامر رانا نے وائس امریکہ سے گفتگو میں کہا سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں کی تخریبی کارروائیاں کرنے کے صلاحیت میں کمی تو ہوئی تاہم یہ مکمل طور ختم نہیں ہوئی ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے پاک فوج کے تین اہلکار مارے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق اتوار کو صوبائی دارالحکومت پشاور کے نواح میں مسلح افراد نے اس وقت فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جب وہ ایک ڈیری فارم سے دودھ لے کر ایک گاڑی پر سوار محو سفر تھے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوج اور پولیس کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور وہاں سے لاشوں کو اسپتال منتقل کرنے کے علاوہ شواہد جمع کر کے تفتیش شروع کر دی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے "جماعت الاحرار" نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ شدت پسند گروہ اس سے قبل بھی پاکستان میں ہوئے متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔

گزشتہ جمعہ کو پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے مہمند میں ایک مسجد پر ہوئے خود کش حملے کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار شدت پسند گروپ نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ نمازیوں میں حکومت کی حامی امن کمیٹی کے ارکان شامل تھے۔

اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد اتوار کو 36 ہو گئی جب کہ اب بھی متعدد زخمی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ایک ماہ کے عرصے کے دوران پاکستان اور بالخصوص صوبہ پختونخواہ اور اس کے ملحقہ قبائلی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں نا صرف عام شہری نشانہ بنے بلکہ سکیورٹی اہلکاروں پر بھی مہلک حملے ہوئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ دو سالوں سے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک اور منظم حملے کرنے کی ان کی صلاحیت کو ختم کرنے کا بتایا جا چکا ہے لیکن حالیہ کچھ عرصے سے ایک بار پھر دہشت گرد مختلف کارروائیاں کر چکے ہیں جنہیں حکام سکیورٹی آپریشنز کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔

سلامتی کے امور کے تجریہ کار عامر رانا نے وائس امریکہ سے گفتگو میں کہا سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں کی تخریبی کارروائیاں کرنے کے صلاحیت میں کمی تو ہوئی تاہم یہ مکمل طور ختم نہیں ہوئی ہیں۔

" ان کی صلاحیت پہلے بھی تھی اور فوجی آپریشن کی وجہ سے وہ بکھر گئے تھے سرحد کے اس طرف چلے گئے دوبارہ سے کچھ گروپ منظم ہو رہے ہیں اور اس میں ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) جو جماعت الاحرار گروپ وہی ٹی ٹی پی کے طور پر سرگرم ہے"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف کارروائیاں مختلف مرحلوں پر عمل میں لائی جاتی رہی ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ اس کے مکمل خاتمے کے لیے خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کو مل کر اس جانب توجہ دینا ہو گی۔

"دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں اب وہ مرحلہ آ گیا ہے جہاں پاکستان اور خاص طور افغانستان کو علاقائی تعاون کے بارے میں سوچ بچار کرنا ہوگی اور اس کے بغیر اب یہ ممکن نہیں ہو گا کہ کوئی ایک ملک اس سے (نمٹ) سکے"۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG