رسائی کے لنکس

پشاور: سات دہائیوں بعد گوردوارے کی رونقیں بحال

  • شمیم شاہد،محمداشتیاق

پشاور میں آباد سکھ برداری کے سرکردہ رہنما گرپال سنگھ کہتے ہیں کہ جس دن یہ گردوارہ سکھوں کے حوالے کیا گیا تو وہ دن اُن کی برادری کے لیے کسی تہوار سے کم نہیں تھا۔

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں سکھوں کی ایک تاریخی عبادت گاہ کو تقریباً ستر سال کے بعد حکومت نے اس برادری کے لوگوں کے حوالے کر دیا ہے۔

پشاور کے علاقے ہشت نگری میں تقریباً تین سو سال قبل قائم ہونے والا گوردوارہ بھائی بیبا سنگھ فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے۔

پشاور میں آباد سکھ برادری کے سرکردہ رہنما گرپال سنگھ کہتے ہیں کہ جس دن یہ گردوارہ سکھوں کے حوالے کیا گیا تو وہ دن اُن کی برادری کے لیے کسی تہوار سے کم نہیں تھا۔

سکھ برادری کا مطالبہ ہے کہ ملک میں آباد غیر مسلم برادریوں کی عبادت گاہوں کو محفوظ بنایا جائے۔

صوبہ خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں سکھوں کی ایک قابل ذکر تعداد آباد ہے اور حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں آباد غیر مسلم برادریوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG