رسائی کے لنکس

'خیبر پختون خوا میں قومی ایکشن پلان پر عمل کر رہا ہے'

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق احمد غنی نے وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صوبائی حکومت قومی لائحہ عمل میں اس کے زیر اثر آنے والے تمام نکات پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کر رہی ہے

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں میں خاص طور پر پولیس اہلکاروں پر دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے لیکن صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وضع کیے گئے قومی لائحہ عمل پر پوری طرح سے عملدرآمد کیے جانے سے ماضی کی نسبت صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی جب کہ معمولات زندگی بھی بحال ہو چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق احمد غنی نے وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صوبائی حکومت قومی لائحہ عمل میں اس کے زیر اثر آنے والے تمام نکات پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کر رہی ہے گزشتہ دو سالوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 25 سے 30 ہزار کارروائیوں کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے اکثر کے خلاف مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر نیشنل ایکشن پلان وضع کیا گیا تھا لیکن اکثر اس پر عملدرآمد میں غیر سنجیدگی سے متعلق صوبوں اور مرکز کے درمیان الزامات کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔

لیکن مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ اس لائحہ عمل کے تحت اس کے زیر اثر آنے والے تمام کام کو وہ انجام دے رہی ہے جب کہ صوبوں میں نیشنل ایکشن پلان کی ذمہ داری متعلقہ حکومتوں کی ہے۔

مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے اپنے ہاں پولیس کو بااختیار بنایا ہے جس کے بعد سے اس فورس کی کارکردگی ان کے بقول بہتر ہوئی جب کہ سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیوں کے باعث امن و امان بحال ہونے کے باعث ایسے لوگ جو صوبہ چھوڑ کر چلے گئے تھے، وہ بھی اب واپس آرہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مختلف محکموں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین شروع کیے جانے والے تعاون کو اب مستقل شکل یا حیثیت دی جا رہی ہے۔ ان کے بقول سول اور فوجی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حکام روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں جس سے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں قابل ذکر پیش رفت ہو رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG