رسائی کے لنکس

پشاور: پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ایک ہلاک، تین زخمی

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کے دوران پولیس اہلکاروں پر پانچ حملے ہو چکے ہیں اور ابتدائی تحقیقات سے یہی معلوم ہوا ہے کہ شدت پسندوں نے اپنا طریقہ واردات تبدیل کیا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخواہ میں پولیس اہلکاروں پر شدت پسندوں کے حملوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بدھ کو مرکزی شہر پشاور میں دو مختلف مقامات پر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے پولیس کے ایک اہلکار کو ہلاک جب کہ ایک انسپکٹر سمیت تین اہلکاروں کو زخمی کردیا۔

پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز خان نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ شہر میں کینال روڈ پر موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ایک پولیس ناکے پر کھڑے اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے ایک اہلکار موقع پر ہلاک جب کہ دوسرا زخمی ہوگیا۔

پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور موٹرسائیکل چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

اعجاز خان نے بتایا کہ ایک دوسرے واقعے میں پہاڑی پورہ کے علاقے میں حملہ آوروں نے انسپکٹر حاجی حمید کو اس وقت گولیوں سے نشانہ بنایا جب وہ اپنے محافظ کے ساتھ دفتر جا رہے تھے۔

فائرنگ سے انسپکٹر اور ان کا محافظ زخمی ہو گئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا اور حکام کے بقول ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پشاور پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کے دوران پولیس اہلکاروں پر پانچ حملے ہو چکے ہیں اور ابتدائی تحقیقات سے یہی معلوم ہوا ہے کہ شدت پسندوں نے اپنا طریقہ واردات تبدیل کیا ہے۔

’’اب جہاں پولیس کی نفری دہشت گردوں کو کمزور نظر آتی ہے یا ایک آدھ بندہ نظر آتا ہے جو تیار نہیں ہوتا ان کو علیحدگی میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ پہلے بھی پولیس ان کے نشانے پر تھی لیکن اب انھوں نے چھوٹے اہلکاروں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس کو ایسے واقعات سے چوکنا رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے اور سلامتی کے مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخواہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے۔ لیکن پولیس اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ایک ایسے وقت دیکھا جا رہا ہے جب مرکزی اور صوبائی حکومت ملک میں امن و امان کے لیے شدت پسندوں سے بات چیت کا عمل شروع کرنے پر آمادہ اور زور دی رہے ہے۔

شدت پسندوں سے بات چیت کے لیے مذہبی جماعت جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو وزیراعظم نواز شریف نے راہ ہموار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

دریں اثناء جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ایک نیم قبائلی علاقے میں بدھ کو ایک خودکش دھماکا ہوا تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

مقامی حکام کے مطابق ایک گاڑی کو روکنے پر اُس میں سوار خودکش بمبار نے سکیورٹی فورسز کی طرف بڑھنا شروع جسے رکنے کا کہا گیا لیکن اس نے اپنے جسم پر بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔
XS
SM
MD
LG