رسائی کے لنکس

پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز خان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی آمد کے پیش نظر مشکوک افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کے کوائف کی مکمل تصدیق کے بعد ہی انھیں شہر میں رہنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

پاکستان کا شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے جاری دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ گزشتہ ماہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کا رد عمل ممکنہ دہشت گرد حملوں کی صورت میں اسی صوبے میں زیادہ ہو سکتا ہے۔

تاہم صوبائی پولیس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن ضرب عضب شروع ہوتے ہی تمام علاقوں کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے افراد کے اندراج کے لیے پوری طرح سے چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ کوئی مشتبہ شدت پسند ان کے بھیس میں بندوبستی علاقوں میں داخل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

بدھ کو پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ مرکزی شہر کی سکیورٹی پہلے ہی بڑھا دی گئی تھی لیکن اب پولیس کے ساتھ فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی حفاظتی سرگرمیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔

"شہر کے تمام داخلی راستوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے، اب فوج، فرنٹیئر کانسٹبلری، فرنٹیئر کور بھی پولیس کے ساتھ مشترکہ گشت کر رہی ہے اور تلاش کی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ قبائلی علاقے سے دہشت گرد بھیس بدل کر پشاور یا دیگر شہروں میں فرار ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے شمالی وزیرستان کے عمائدین سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

"ہم مقامی قبائلی ملک سے ان کی تصدیق کرواتے ہیں، یہاں پشاور میں شمالی وزیرستان سے آئے لوگوں کی ایک کمیٹی بھی ہے جو ان عمائدین پر مشتمل ہے وہ تصدیق کرتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ فلاں قوم کے لوگ ہیں۔"

فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کر کے آنے والے آٹھ لاکھ سے زائد افراد کا اندراج کیا جا چکا ہے جن کی اکثریت جنوبی ضلع بنوں اور اس کے گرد و نواح میں عارضی طور پر قیام پذیر ہے۔ لیکن شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے بہت سے افراد نے مختلف علاقوں کا بھی رخ کیا ہے۔

نقل مکانی کر کے آنے والے بعض خاندان پشاور اور چارسدہ بھی پہنچے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بدھ تک پشاور آنے والے 9245 افراد کا اندراج کیا جا چکا ہے۔

پشاور پولیس کے سربراہ اعجاز خان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی آمد کے پیش نظر مشکوک افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کے کوائف کی مکمل تصدیق کے بعد ہی انھیں شہر میں رہنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG