رسائی کے لنکس

پشاور: بڈھ بیر میں شدت پسندوں کے حملے میں نو ہلاک

  • شمیم شاہد

پولیس اور بم ڈسپوزل کے اہلکار جائے وقوع پر شواہد اکٹھے کر رہے ہیں

پولیس اور بم ڈسپوزل کے اہلکار جائے وقوع پر شواہد اکٹھے کر رہے ہیں

مقامی پولیس کے مطابق بیس سے زائد شدت پسندوں نے ایک گھر پر پہلے دستی بم پھینکا اور اس کے بعد جدید ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبرپختونخواہ میں ایک گھر پر مشتبہ شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے گھر پر دستی بم پھینکے اور پھر عورتوں اور کم سن بچوں کو ایک طرح کر کے دیگر افراد پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس رحیم شاہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا دہشت گردی کے علاوہ یہ ذاتی دشمنی کی واردات بھی معلوم ہوتی ہے۔

’’دہشت گردی میں تو بس وہ آتے ہیں بم وغیرہ کا دھماکا کرکے فائرنگ کرکے چلے جاتے ہیں لیکن یہاں انھوں نے یہ جو کیا وہ ان کے ساتھ پرانی رنجش تھی۔‘‘

حملے میں مقامی امن لشکر سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے نو افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

شدت پسند حملے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ علاقے سے ملحقہ خیبر ایجنسی میں موجود شدت پسند گروہوں میں سے کوئی گروپ اس واقعے میں ملوث ہوسکتا ہے۔

چند ہفتے قبل اسی گھر پر شدت پسندوں نے حملہ کرکے ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

پشاور سمیت بڈھ بیر میں شدت پسندوں کی طرف سے پہلے بھی کئی جان لیوا حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

منگل کو پشاور کے ایک سینما گھر پر دستی بم حملوں میں کم ازکم 14 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد شہر کے تمام سینما گھر بند کر دیے گئے۔

صوبائی محکمہ داخلہ نے بدھ کو تمام سینما گھروں کے مالکان کو خصوصی سکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔ اس میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے علاوہ گارڈز تعینات کرنے کا کہا گیا۔

یہ واقعات ایک ایسے وقت رونما ہوئے ہیں جب ملک میں امن و امان کے قیام کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت مذاکرات کر رہی ہے اور سرکاری کمیٹی اور طالبان کی نامزد کردہ کمیٹیوں کی ہونے والی ملاقاتوں میں اس ضمن میں حوصلہ افزا اشارے بھی ملے ہیں۔
XS
SM
MD
LG