رسائی کے لنکس

ٹھوس اقدامات کریں کہ پٹرول کی قلت دوبارہ پیدا نہ ہو: وزیراعظم


منگل کو بھی جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد سمیت لاہور کے علاوہ مختلف شہروں میں لوگ پٹرول کے حصول کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔

پاکستان میں خصوصاً آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پٹرول کا بحران گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے لیکن حکام کے بقول تیل کی فراہمی میں اضافے کے بعد صورتحال پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔

منگل کو بھی جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد سمیت لاہور کے علاوہ مختلف شہروں میں لوگ پٹرول کے حصول کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔

شہری اس ساری صورتحال پر خاصے نالاں دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران کے باعث درپیش مشکلات میں اب پٹرول کی کم یابی اور عدم دستیابی نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے اس بحران کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا اور چار اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو غفلت برتنے کے الزام میں معطل بھی کردیا تھا۔

منگل کو ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے ہدایت جاری کی کہ ایسے ٹھوس اقدامات کیے جائیں کہ پٹرول کی قلت دوبارہ پیدا نہ ہو۔

اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پٹرول بحران ملک میں تیل و گیس کے نگران ادارے "اوگرا" کی بڑی ناکامی ہے کیونکہ یہی ادارہ پٹرولیم مصنوعات کے 20 روز کے ذخیرے کی نگرانی کا ذمہ دار ہے اور طلب و رسد کے فرق کے بعد تیل کی کمپنیوں کو اس ذخیرے کو یقینی بنانے کے لیے اوگرا نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

گزشتہ تین ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی کی جاچکی ہے اور وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے یہ بحران پٹرول کی طلب اور رسد میں اچانک پیدا ہونے والے فرق کے باعث پیدا ہوا جس کی پیش بینی نہیں کی گئی تھی۔

حکام کے بقول تین روز کے دوران پٹرول پمپس کو 57 لاکھ لیٹر پٹرول فراہم کیا گیا اور آئندہ 12 گھنٹوں میں مزید 18 لاکھ لیٹر سے زائد فراہم کر دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG