رسائی کے لنکس

کچھ صارفین کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آئے کہ محض ایسی قربانی سے طیاروں کو اڑایا یا محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔

پاکستان کی قومی ائیر لائن ’پی آئی اے‘ کا ایک ’اے ٹی آر‘ ساخت کا طیارہ رواں ماہ کی سات تاریخ کو چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں کے قریب پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

اس حادثے کے بعد سے ’پی آئی اے‘ کے زیر استعمال طیاروں کی حالت سے متعلق نا صرف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں خصوصی خبریں و تجزیے سامنے آئے، بلکہ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس یعنی ’سوشل میڈیا‘ پر بھی لوگوں نے اپنی اپنی رائے کا اظہار دل کھول کر کیا۔

لیکن اس معاملے پر ایک مرتبہ پھر اتوار اور پیر کو ’سوشل میڈیا‘ کے علاوہ اخبارات میں بھی خبریں گرم رہیں، اس مرتبہ ان خبروں کی وجہ ’اے ٹی آر‘ طیاروں کی پروازوں کی بحالی سے قبل ایک طیارے کے سامنے ہوائی اڈے پر سیاہ رنگ کے بکرے کی قربانی بنی۔

اس طرح بظاہر طیارے تحفظ کے لیے بکرے کی قربانی پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ’پی آئی اے‘ کا تمسخر اڑاتے ہوئے کچھ انٹرنیٹ صارفین کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آئے کہ محض ایسی قربانی سے طیاروں کو اڑایا یا محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔

واضح رہے کہ 7 دسمبر کو پیش آنے والے فضائی حادثے میں ’اے ٹی آر‘ طیارے پر سوار 42 مسافروں اور عملے کے پانچ اراکین میں سے کوئی بھی نا بچ سکا تھا۔

اس فضائی حادثے کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کے زیراستعمال بقیہ تمام 10 ’اے ٹی آر‘ طیاروں کو گراؤنڈ کر کے اُن کی تفصیلی جانچ کا کہا تھا، جس کے بعد ان طیاروں کا تفصیلی تکنیکی معائنہ کیا گیا۔

’پی آئی اے‘ کے ترجمان نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ’اے ٹی آر‘ طیاروں کی چھ پروازوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اسلام آباد سے کابل، اسلام آباد سے ملتان اور اسلام آباد سے گلگت دو طرفہ پروازیں شروع کی گئیں۔

واضح رہے کہ ’اے ٹی آر‘ طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد ہونے والی تنقید کے سبب پی آئی اے کے چیئرمین اعظم سہگل اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG