رسائی کے لنکس

پاکستان میں معیار جمہوریت کی شرح 45 فیصد: رپورٹ

  • یاسر منصوری

پاکستان میں معیار جمہوریت کی شرح 45 فیصد: رپورٹ

پاکستان میں معیار جمہوریت کی شرح 45 فیصد: رپورٹ

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کی رائے کی روشنی میں تیار کی گئی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور غیر جانب دار مبصرین نے ملک میں موجودہ جمہوری نظام کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دہتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے نو سالہ دور حکمرانی کے بعد 2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت نے آئینی ترامیم، انسداد دہشت گردی پر قومی اتفاق رائے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں واضح پیش رفت کی ہے۔

پاکستان میں قانون سازی کے فروغ اور شفافیت کے موضوع پر سرگرم عمل ایک غیر سرکاری تنظیم نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت کے پہلے تین سالہ دور میں معیار جمہوریت کو 45 فیصد قرار دیا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلے ٹیو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرینسی (پلڈاٹ) نے یہ شرح منگل کو اسلام آباد میں جاری کی گئی اپنی تازہ رپورٹ میں بتائی ہے جس میں ملک میں جمہوریت کے معیار کا وسط مدتی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کی رائے کی روشنی میں تیار کی گئی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور غیر جانب دار مبصرین نے ملک میں موجودہ جمہوری نظام کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دہتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے نو سالہ دور حکمرانی کے بعد 2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت نے آئینی ترامیم، انسداد دہشت گردی پر قومی اتفاق رائے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں واضح پیش رفت کی ہے۔

سابق وفاقی وزیر جاوید جبار

سابق وفاقی وزیر جاوید جبار

اس موقع پر سابق وفاقی وزیر جاوید جبار نے سیاسی جماعتوں کی طرف سے کسی غیر جمہوری اقدام کے ذریعے موجودہ نظام کو پٹڑی سے اُتارنے کی متفقہ مخالفت کو سراہا۔ ”سخت کشیدگی کے اور ہر روز ایک دوسرے کے خلاف بیانات کے باوجود اب بھی سیاسی جماعتوں کی قیادت میں ایک میچیورٹی کا اور ذمہ داری کا احساس نظر آ رہا ہے۔“

تاہم رپورٹ کے مطابق معیار جمہوریت کی موجودہ شرح سابق صدر مشرف کے دور کی نسبت صرف پانچ فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان میں معیار جمہوریت پر یہ جائزہ ایک ایسے وقت پیش کیا گیا ہے جب سیاسی مبصرین اور عوامی حلقے غیر موزوں طرز حکمرانی ، مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کے بحران کو حل نا کرنے پر پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔

مزید براں حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت ایک طرف اپنی اہم حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ساتھ اختلافات دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف کی مرکزی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اُس کے تعلقات میں آئے روز کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

ان حالات میں سیاسی مبصرین کے خیال میں رواں ماہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران صدر آصف علی زرداری کو حزب اختلاف کے اراکین کی طرف سے شدید درعمل اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG