رسائی کے لنکس

کم عمر مجرموں کی بحالی کے لیے مراکز کے قیام کی منصوبہ بندی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان میں جیلوں کی حالت زار اور ان میں گنجائش سے زیادہ موجود قیدیوں سے متعلق خبریں آئے روز منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

پاکستان کی حکومت کم عمر قیدیوں کی بحالی کے لیے انھیں فنی تربیت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جسے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک اچھی پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

نوجوانوں کے لیے وزیراعظم کے پروگرام کی سربراہ لیلیٰ خان نے سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ ابتدائی طور پر چاروں صوبوں میں ایک، ایک مرکز قائم کیا جائے گا اور بعد ازاں اس میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔

پاکستان میں جیلوں کی حالت زار اور ان میں گنجائش سے زیادہ موجود قیدیوں سے متعلق خبریں آئے روز منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

حال ہی میں ایوان بالا کی طرف سے بھی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ خاص طور پر جیلوں میں قید خواتین کی حالت زار کو بہتر بنانے اور ان کے مبینہ استحصال کے خاتمے کے لیے اقدام کرے۔

بچوں کے حقوق کے ایک سرگرم کارکن اور تجزیہ کار ارشد محمود نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بدقسمتی سے کم عمری میں جرائم کے مرتکب ہونے والوں کی بحالی کے لیے باقاعدہ اداروں کی تعداد بہت کم ہے اور اگر کہیں کوئی مرکز قائم بھی ہے تو اس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ ایسے میں ان کے بقول تربیتی مراکز کا قیام ایک اچھا قدم ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے مراکز کو باقاعدہ اداروں میں قائم کیا جائے تاکہ ان کی افادیت کو کم نہ کیا جا سکے۔

"یہ اچھا اقدام ہے لیکن میں اس بارے میں مزید کہنا چاہوں گا کہ یہ سلسلہ بورسٹل انسٹیٹیوشنز (کم عمر بچوں کے اصلاحی مراکز) میں قائم کیے جائیں۔۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر کل کو یہ اسکیم ختم بھی ہو جائے تو یہ ادارے تو جاری رہیں گے اور مستقبل میں بھی کام آتے رہیں گے۔"

ارشد محمود کہتے ہیں کہ سول سوسائٹی ایک عرصے سے یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ بچوں کو ان کی جیلوں میں قید کرنے کی بجائے اصلاحی مراکز بنا کر ان میں رکھا جائے تا کہ وہ جب ان سے باہر آئیں تو معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کی سربراہ لیلیٰ خان کہتی ہیں کہ حکومت عسکریت پسندی سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کے لیے بھی مراکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG