رسائی کے لنکس

پی آئی اے طیارہ حادثہ، تمام 42مسافر اور عملے کے 5 افراد ہلاک


 بینظیر ایئر پورٹ اسلام آباد میں ایک سیکیورٹی اہل کار کو دوسری سمت جانے کا کہہ رہا ہے۔ 7 دسمبر 2016

بینظیر ایئر پورٹ اسلام آباد میں ایک سیکیورٹی اہل کار کو دوسری سمت جانے کا کہہ رہا ہے۔ 7 دسمبر 2016

حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کے ملبے سے اب تک 40 نعشیں نکالی جا چکی ہے۔ حادثے کے مقام پر پاک فوج اور دیگر ادارے امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نعشوں کو ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی قومی ائیر لائن ’پی آئی اے‘ کا چترال سے اسلام آباد آنے والے طیارہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقے حویلیاں میں بدھ کی سہ پہر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

’پی آئی اے‘ کے ترجمان نے بتایا کہ پرواز ’پی کے 661‘ حویلیاں کے قریب ایک گاؤں سدھا بتولنی میں گر کر تباہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق طیارے کا ملبہ تین سے چار کلو میٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔

سرور کو تیکنیکی مسئلہ درپیش ہے

Oops, as you can see, this is not what we wanted to show you! This URL has been sent to our support web team to the can look into it immediately. Our apologies.

Please use Search above to see if you can find it elsewhere

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق 36 مسافروں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

سیول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق طیارہ لگ بھگ تین بج کر 30 منٹ پر چترال سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا تھا اور طیارے کا کنٹرول ٹاور سے آخری رابطہ تقریباً ساڑے چار بجے ہوا تھا۔

’پی آئی اے‘ کے مطابق اے ٹی آر 42 ساخت کے اس طیارے پر 42 مسافر سوار تھے جن میں 31 مرد، نو خواتین، دو بچے شامل تھے، ان مسافروں میں دو آسٹریلوی اور ایک چینی شہری بھی شامل تھا۔ جب کہ اس کے علاوہ طیارے پر عملے کے پانچ افراد بھی سوار تھے۔

معروف نعت خواں اور ماضی کے گلوکار جنید جمشید اور اُن اہلیہ بھی مسافروں میں شامل تھیں۔

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے پر سوار افراد کی فہرست

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے پر سوار افراد کی فہرست

وزیراعظم نواز شریف نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ امدادی کاموں کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ جب کہ فوج طرف سے بھی ہیلی کاپٹر اور امدادی ٹیمیں میں پہنچ گئیں۔

وزارت داخلہ نے لاشوں کی شناخت ’ڈی این اے‘ کے ذریعے کرنے میں مدد کے لیے ایک ٹیم بھی روانہ کر دی ہے۔

’پی آئی اے‘ نے مسافروں اور اس حادثے سے متعلق معلومات کے بارے میں ایک ہنگامی سینٹر کراچی میں قائم کر دیا ہے۔

جہاں یہ حادثہ پیش آیا وہ پہاڑی علاقہ ہے اور امدادی ٹیموں کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

ابتدائی امدادی سرگرمیوں میں مقامی دیہاتیوں ہی نے حصہ لیا ہے اور عینی شاہدین کے مطابق طیارے میں لگنے والی آگ کو بجھا دیا گیا ہے اور لاشوں کو ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس پہنچایا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے پرواز کے دوران طیارے میں تکنیکی خرابی ہوئی اور پائلٹ نے انجن خراب ہونے کی اطلاع دی تھی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG