رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان میں بڑی فوجی کارروائی متوقع: رپورٹ


اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک نامعلوم پاکستانی اہل کار نے بتایا ہے کہ اِس فوجی منصوبہ بندی کے بارے میں امریکی حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے، جو ایک طویل عرصے سے ایسی ہی کارروائی پر زور دیتے آرہے تھے

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک اعلیٰ پاکستانی اہل کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں کے دوران طالبان کی طرف سے سفاکانہ حملوں کے ایک سلسلے کے نتیجے میں اور شدت پسندوں کے ساتھ امن مذاکرات کی بظاہر ناکامی کے بعد، حکومتِ پاکستان شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں کسی بھی لمحے ایک بڑی فوجی کارروائی کرنے والی ہے۔

منگل کو شائع ہونے والی اِس رپورٹ میں عہدیدار نے کہا کہ یہ کارروائی’کسی بھی لمحے ہو سکتی ہے‘۔

اہل کار نے مزید کہا کہ اِس فوجی منصوبہ بندی کے بارے میں امریکی حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے، جو ایک طویل عرصے سے ایسی ہی کارروائی پر زور دیتے آرہے تھے۔

فوجی کارروائی کی یہ منصوبہ بندی ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب پاکستان کی درخواست پر امریکی ڈروں حملے روکے ہوئے ہیں، جو اب تیسرے ماہ میں داخل ہونے والے ہیں، جو گذشتہ دو برس کے دوران کسی کارروائی کے بغیر کا ایک طویل عرصہ ہے، جب کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ سطح کی کئی ایک ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

سکیورٹی اہل کاروں کے ایک وفد کے سربراہ کے طور پر، پاکستان کےسکریٹری دفاع، آصف یاسین ملک اِن دِنوں واشنگٹن میں ہیں۔

سی آئی اے کے سربراہ، جان برینن نے گذشتہ ہفتے خاموشی سے پاکستان کا دورہ کیا، جس سے کچھ ہی دِن قبل، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ، جنرل لائنڈ جے آسٹن نے راولپنڈی میں بری فوج کے ہیڈکوارٹرز میں ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے قومی سلامتی کے مشیر نے بتایا ہے کہ اس مجوزہ فوجی کارروائی کے بارے میں کابینہ سطح کی مشاورت اسی ہفتے ہونے والی ہے۔

سرتاج عزیز نے پیر کے دِن اسلام آباد میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ طالبان کے ساتھ مکالمہ تعطل کا شکار ہوچکا ہے، اور یہ کہ اس علاقے میں ریاست کے اقتدارِ اعلیٰ کو قائم کیا جائے گا۔

اہل کار نے بتایا ہے کہ قبائلی علاقے میں پہلے ہی ڈیڑھ لاکھ فوج موجود ہے، اور بقول عہدے دار، حکومت علاقے کا مکمل صفایا کرنے کے لیے بڑی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
XS
SM
MD
LG