رسائی کے لنکس

ملک کو آلودگی سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان


ملک کو آلودگی سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان

ملک کو آلودگی سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان

کراچی میں اسکول کے بچوں کو شجرکاری اور ماحولیات سے متعلق معلومات اور آگاہی فراہم کرنے کے لیے نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ اور شہری حکومت کے پروگرام اآئی اون کراچی کے تحت شہر میں گرین کلب پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کی افتتاحی تقریب پیر کے روز مزار ِ قائد کے احاطے میں ہوئی جہاں اسکول کے بچوں نے وفاقی وزیرِ ماحولیات حمیداللہ جان آفریدی کے ہمراہ شجرکاری کی اور ٹیبلو پیش کیے۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ ماحولیات حمیداللہ جان آفریدی نے کہا کہ ملک کو آلودگی سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے اور جنگلات کا رقبہ مختصر ہو رہا ہے۔ ان کے بقول سندھ حکومت نے ایک لاکھ 55 ہزار ایکڑ پر مشتمل جنگلات کی زمین میں سے ایک لاکھ 11 ہزار ایکڑ دوسرے مقاصد کے لیے نجی اور سرکاری اداروں کو الاٹ کردی ہے جو ملک کا بڑا نقصان ہے تاہم صوبائی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ دیگر فالتو زمین جنگلات کے لیے الاٹ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہتر ماحول اور آلودگی کے خاتمے کے لیے تمام ماحولیاتی قوانین اور پالیسیوں پر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے ۔ تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ ملک سے آلودگی کے خاتمے کے لیے پالیسی صوبوں کو دے دی گئی ہے لیکن با حیثیت قوم اپنے قوانین پر عمل درآمد کرنے میں ہم ناکام ہیں اور ماحولیاتی ایکٹ جو 1997 ء میں نافذ کیا گیا تھا اس پر 20 فیصد بھی عمل نہیں ہوا۔

ماحولیا ت کے لیے کام کرنے والے ادارے نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی جانب سے گرین کلب اب تک شہر کے 11سے 12 اسکولوں میں قائم کیا چکا ہے۔ادارے کے سربراہ نعیم قریشی کہتے ہیں کہ ہیں کہ وہ اس پراجیکٹ کو بڑے پیمانے پر لانچ کرنا چاہتے ہیں پہلے مرحلے میں30 اسکولوں میں گرین کلب قائم کیے جائیں گے اورماحول و صحت سے متعلق سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی اور آج اس کا آغازہورہا ہے ۔ان کے بقول رواں سال دس ہزار درخت بھی لگائے جائیں گے اور ان کی نگرانی بھی کی جائے گی۔

نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے صدر نعیم قریشی کا کہنا ہے” ماحول کی حفاظت کرنے اور اس عمل کو جاری اور مزید فروغ دینے کے لیے ہمیں ”اونرز“ کی ضرورت ہے ”رولرز“ کی نہیں ۔چاہے وفاقی، صوبائی یا شہری حکومت ہو، غیر سرکاری ادارے یا عام شہری یہ سب اس مقصد کو اپنائیں گے اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں گے تو تبدیلی آئے گی۔“
واضح رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جہاں ماحولیاتی آلودگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے وہاں ماہرین ماحولیات اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے درختوں کی کٹائی پر پابندی اور مزید درخت لگانے کی تجویز دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے کراچی میں درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کردی ہے۔ جبکہ حکومت سندھ نے سرسبز اور صاف ماحول کے فوائد اور انسانی صحت پر اس کے مثبت اثرات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حال ہی میں نیم کے درخت کو صوبے کا سرکاری درخت قرار دیا ہے اور بڑے پیمانے پر اس درخت کی شجرکاری کا اعلان کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG