رسائی کے لنکس

حکومت نے فوجی آپریشن کے ذریعے 2009ء میں یہاں سے شدت پسندوں کو مار بھگایا اور ریاستی عملداری بحال کی۔ اس آپریشن کے بعد سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تقریباً بیس ہزار فوجی موجود تھے لیکن یہاں کوئی باقاعدہ چھاؤنی نہیں تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے قدرتی حسن سے مالا مال اور ایک وقت میں شدت پسندوں کے قبضے میں رہنے والی وادی سوات میں فوجی چھاؤنی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق نوازشریف نے سوات اور مالاکنڈ ریجن میں بریگیڈ لیول کے کنٹونمنٹ کے قیام کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔

ملک کے شمال مغرب میں واقع سیاحوں کے لیے کشش رکھنے والے اس خطے میں 2007ء میں طالبان نے شدت پسندانہ کارروائیاں کرتے ہوئے یہاں حکومت کی عملداری مکمل طور پر ختم کر دی تھی۔

اس علاقے میں شدت پسندوں کا سربراہ ملا فضل اللہ تھا جو گزشتہ سال کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد اس تنظیم کا نیا سربراہ مقرر ہوا۔

حکومت نے فوجی آپریشن کے ذریعے 2009ء میں یہاں سے شدت پسندوں کو مار بھگایا اور ریاستی عملداری بحال کی۔ اس آپریشن کے بعد سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تقریباً بیس ہزار فوجی موجود تھے لیکن یہاں کوئی باقاعدہ چھاؤنی نہیں تھی۔

وزیراعظم نے بدھ کو یہاں کا دورہ کیا اور قیام امن کے لیے فوج کے کردار کو سراہا۔

سرکاری بیان کے مطابق سوات میں نوجوانوں کو انتہا پسندی سے نکال کر معاشرے کا فعال شہری بنانے کے لیے فوج کے زیر انتظام قائم بحالی مرکز 'سباؤن' کے دورے کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے خواہش کا اظہار کیا کہ ملک میں امن اور بھائی چارے، محبت اور یگانگت کی فضا فروغ پائے۔
XS
SM
MD
LG