رسائی کے لنکس

سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں جاری


وزیراعظم نواز شریف

وزیراعظم نواز شریف

ایک طرف حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری جانب عمران کے مطالبات پر غور کے لیے سیاسی مشاورت بھی ہو رہی ہے۔

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے 14 مارچ کو اسلام آباد کی جانب ’لانگ مارچ‘ اور دھرنا دینے کے اعلان کے تناظر میں سیاسی صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔

ایک طرف حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری جانب عمران خان کے مطالبات پر غور کے لیے سیاسی مشاورت بھی ہو رہی ہے۔

اُدھر وزیراعظم نواز شریف نے ہفتہ کو قومی سلامتی کانفرنس طلب کر لی ہے جس میں سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ اجلاس ایسے وقت طلب کیا گیا جب قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون سے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن جاری ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق قومی سلامتی کانفرنس کا موجودہ سیاسی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں اور اس اجلاس میں شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متعلق صورت حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل ظہیر الاسلام کے علاوہ کئی سیاسی جماعتوں کے رہنما شرکت کریں گے۔

لیکن بعض حلقے ملک میں سیاسی تناؤ کی موجودہ صورت حال میں بھی اس کانفرنس کو اہم قرار دے رہے ہیں، جس میں عسکری اور سیاسی قیادت ایک چھت تلے ملک کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرے گی۔

رواں ہفتے وزیراعظم نواز شریف سیاسی صورتحال کو بات چیت کے ذریعے معمول پر لانے کے لیے مختلف سیاسی قائدین سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔

جمعہ کو وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پیش کش کی۔

انھوں نے اس موقع پر عمران خان کو مخاطب کرنے کے لیے اشعار کا سہارا لیتے ہوئے ہار جیت کی باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے دوستی کا مشورہ دیا۔

لیکن اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اُن کی جماعت مارچ ضرور کرے گی۔

’’مارچ ہو گی، 14 اگست کو ادھر اسلام آباد میں فیصلہ ہو گا، اپنے مطالبات پیش کریں گے۔ ہمارا کوئی بھی مطالبہ آئین سے ماورا نہیں ہو گا۔‘‘

عمران خان 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور اُن کا دعویٰ ہے کہ جوڈیشل کمیشن سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے انصاف نا ملنے پر یہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔

حکومت اور عمران خان کے درمیان کشیدگی کو کم کرانے کے لیے سیاسی رابطوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ جمعہ کو جماعت اسلامی کے ایک وفد نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار سے ملاقات کی۔

اس کے بعد جماعت اسلامی کے ایک رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ وہ پر اُمید ہیں کہ اس تناؤ کو کم کرنے کی کوششوں سے صورت حال بہتر ہو سکے گی۔

’’سیاست اور جمہوریت اسی چیز کا نام ہے کہ ضد کی بجائے، جو ملک و ملت کی ضرورت ہے جمہوریت کے تقاضے ہیں ہم (اس بارے میں) اپنا مثبت کردار ادا کریں۔‘‘

اُدھر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہو گی۔

واضح رہے کہ ابھی تک حکومت نے عمران خان کو اسلام آباد میں ریلی کی اجازت نہیں دی ہے۔

XS
SM
MD
LG