رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر موثر عمل درآمد ضروری ہے: نواز شریف

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت اُن مشکلات سے بھی آگاہ کرے جس کا اُنھیں اس سلسلے میں سامنا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ پر عمل درآمد وفاق اور تمام صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم بدھ کو کوئٹہ پہنچے اور اُنھوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی ’ایپکس کمیٹی‘ کے اجلاس کی صدارت کی۔

اس موقع پر فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی اجلاس میں شریک تھے۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت اُن مشکلات سے بھی آگاہ کرے جس کا اُنھیں اس سلسلے میں سامنا ہے۔

’’وفاقی حکومت کی طرف سے، فوج کی طرف سے جس قسم کی بھی مدد آپ کو چاہیئے وہ آپ کو مزید دی (جائے گی)، تاکہ آپ اس قومی لائحہ عمل پر صحیح طریقے سے موثر عمل درآمد کریں سکیں اور کے اس نتائج قوم دیکھ سکے۔‘‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کا قومی لائحہ عمل صرف وفاقی حکومت یا کسی ایک فریق کا تیار کردہ نہیں ہے بلکہ تمام سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر اس کی منظوری دی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو اس پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئے۔

’’اب میرا خیال ہے کہ ذمہ داری حکومتوں پر آتی ہے کہ اس پر موثر عمل درآمد کرائیں۔۔۔ کسی صوبے میں اس پر عمل درآمد کیپیش رفت بہتر ہے کسی کی (رفتار) کم ہے لیکنمیں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کو ایک ہی رفتار سے کام کرنا چاہیئے اور اس میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش ہونی چاہیئے۔‘‘

وزیراعظم نے گورنر اور وزیراعلی بلوچستان کو یقین دلایا کہ صوبے میں امن وامان کی بحالی کے لیے جو بھی وسائل درکار ہیں وہ فراہم کئے جائیں گے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ افغانستان سے تخریب کاروں کے داخلے کو روکنے اور ایران کے سرحدی علاقے میں کارروائیاں کرنے والوں کی نگرانی کو مزید سخت کیا جائے گا۔

ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت کارروائیاں جاری ہیں جن میں ہزاروں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

XS
SM
MD
LG