رسائی کے لنکس

دورہ امریکہ سے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا: نواز شریف


پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس دورے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ان کے دورہ امریکہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم رواں ماہ کے اواخر میں امریکہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے جس کی دعوت انھیں صدر براک اوباما نے دی تھی۔

جمعرات کو انھوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں اس دورے سے متعلق امور پر تبادلہ کیا گیا۔

سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ چودھری نثار، مشیر برائے خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز اور خارجہ امور کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس دورے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

انسداد دہشت گردی کی بین الاقوامی کوششوں میں پاکستان ایک ہراول دستے کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور خاص طور پر گزشتہ سال افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے کردار کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

پاکستان نے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ سال ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی شروع کی تھی جس میں اب تک حکام نے تین ہزار سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بتایا ہے۔

اس آپریشن کی وجہ سے ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال میں خاصی بہتری دیکھی گئی ہے اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں سے حاصل ہونے والے نتائج کو امریکہ سمیت عالمی برادری قابل ستائش تو قرار دیتی ہے۔

لیکن انسداد دہشت گردی میں پاکستان کی کوششوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ حال ہی میں ایسی آوازیں بھی اٹھنا شروع ہوئی ہیں کہ پاکستان صرف ان دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ اپنے لیے خطرہ تصور کرتا ہے جب کہ افغانستان اور امریکی مفادات کے لیے مہلک تصور کیے جانے والوں خصوصاً حقانی نیٹ ورک کے خلاف اس کی فورسز مبینہ طور پر صرف نظر کر رہی ہیں۔

تاہم پاکستان ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ یہ کارروائیاں بغیر کسی امتیاز کے تمام دہشت گردوں کے خلاف کر رہا ہے۔

2013ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کا یہ دوسرا دورہ امریکہ ہے۔

توقع ہے کہ اس دورے میں افغانستان میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی کوششوں اور کردار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان نے رواں سال جولائی میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے مابین پہلی براہ راست ملاقات کی میزبانی بھی کی تھی جس میں امریکہ اور چین کے مبصر میں شریک ہوئے تھے۔

لیکن بعد ازاں یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور افغانستان میں ہونے والے پے درپے ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری افغان قیادت پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپوں پر عائد کرنے لگی جس سے اسلام آباد اور کابل میں فروغ پاتے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG