رسائی کے لنکس

وزیراعظم کسی سے ملنے نہیں، علاج کے لیے لندن گئے ہیں: نثار


چودھری نثار علی خان (فائل فوٹو)

چودھری نثار علی خان (فائل فوٹو)

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ وزیراعظم اپنے علاج کے لیے لندن گئے ہیں اور "کسی کی بیماری پر طعنہ زنی" کر کے کچھ لوگ انتہائی نچلی سطح کی سیاست پر اتر آئے ہیں۔

پاناما لیکس میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کی تفصیل سامنے آنے کے بعد سے ملک میں شروع ہونے والی سیاسی محاذ آرائی بدستور جاری ہے اور ایسے میں بدھ کو وزیراعظم نواز شریف کی لندن روانگی کے بارے میں قیاس آرائیوں نے بھی جنم لیا ہے۔

تاہم پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار بدھ کو نیوز کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم کے لیے لندن گئے ہیں اور اس معاملے کو سیاسی رنگ نا دیا جائے۔

چوہدری نثار کے بقول گزشتہ دو تین ہفتوں سے وزیراعظم کی صحت ٹھیک نہیں تھی ’’اُن کے ڈاکٹر نے فوراً انھیں لندن آنے کا مشورہ دیا۔‘‘ جب کہ اس سفر سے قبل ڈاکٹروں نے اُنھیں تین روز کے مکمل آرام کا مشورہ دیا۔

وزیر داخلہ کے بقول جیسے ہی ڈاکٹر وزیراعظم کو اجازت دیں گے وہ وطن واپس آ جائیں گے۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک سینیئر رہنما سینیٹر اعتزاز احسن کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ وزیراعظم طبی معائنے کے لیے نہیں بلکہ سابق صدر مملکت اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے لندن جا رہے ہیں۔

تاہم وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ایسے بیانات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اپنے علاج کے لیے لندن گئے ہیں اور "کسی کی بیماری پر طعنہ زنی" کر کے کچھ لوگ انتہائی نچلی سطح کی سیاست پر اتر آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کا معاملہ وزیراعظم کے بچوں کے اثاثوں سے متعلق ہے اور وہ ہی اس کا جواب دیں گے لیکن حکومت اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے اس معاملے کی تحقیقات ایک سابق جج کی سربراہی میں کمیشن بنا کر کروانے کا اعلان کیا تھا لیکن حزب مخالف اسے مسترد کرتے ہوئے اس کی تحقیقات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن سے کروانے کا کہتی ہے۔

وزیراعظم لندن راونگی سے قبل اپنی والدہ سے مل رہے ہیں

وزیراعظم لندن راونگی سے قبل اپنی والدہ سے مل رہے ہیں

وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے سابق چیف جسٹس صاحبان ناصر الملک اور تصدیق جیلانی سمیت چند جج صاحبان سے رابطہ کیا تھا لیکن انھوں نے بغیر وجہ بتائے کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دینے کے لیے 24 اپریل تک کی مہلت دے رکھی ہے اور اس کے بقول مہلت ختم ہونے کے بعد وہ حکومت کے خلاف اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی بھی چیف جسٹس کی زیرنگرانی کمیشن بنانے کے حق میں ہے لیکن وہ وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے پر تحریک انصاف سے متفق نہیں۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی کہتے ہیں کہ ان کی جماعت اس معاملے پر حکمران جماعت کو کسی بھی طرح سہولت نہیں دے گی اور اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

"اگر مسلم لیگ ن یا وزیراعظم صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ پاناما لیکس پر جو بحران ہے ہم اس پر خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے تو اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور پیپلز پارٹی نے اپنا موقف پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ ہم اس پر اس طرح بات کرتے رہیں گے اور شاید آنے والے دنوں میں زیادہ بات کریں گے۔"

حکومتی جماعت کے قانون سازوں کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن اس معاملے پر کسی بھی سیاسی جماعت سے نہ تو مدد مانگے گی اور نہ ہی کسی جماعت سے مشاورت کرے گی کیونکہ یہ ذاتی معاملہ ہے نہ کہ ملکی یا قومی۔

تاہم ان کے بقول حکمران جماعت اپنے قائد کا دفاع ضرور کرے گی اور وہ قانونی طور پر صحیح جگہ پر کھڑے ہیں۔

XS
SM
MD
LG