رسائی کے لنکس

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں جوہری توانائی کا ادارہ "پاکستان اٹامک انرجی کمیشن" تمام جوہری بجلی گھروں میں حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں پہلے سے قائم اور نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر میں حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور جوہری توانائی کا بین الاقوامی ادارہ (آئی اے ای اے) اس سے آگاہ اور مطمیئن ہے۔

یہ بات انھوں نے جمعرات کو ساحلی شہر کراچی میں جوہری توانائی کے منصوبے "کے ٹو" پاور پلانٹ میں کنکریٹ پورنگ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ملک کے اس سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کی تکمیل کے بعد یہاں سے 1100 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو سکے گی۔

جوہری توانائی کے دیگر منصوبوں کی طرح 'کے ٹو' بھی چین کے تعاون سے تعمیر کیا جا رہا ہے جو وزیراعظم کے بقول پاکستان اور چین کے درمیان جوہری سائنسی ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری کا "منہ بولتا ثبوت ہے۔"

اس سے قبل پنجاب میں چشمہ کے مقام پر دو جوہری بجلی گھر چشمہ ون اور چشمہ ٹو تقریباً چھ سو میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جب کہ یہیں بنائے جانے والے چشمہ تھری اور فور بجلی گھروں سے آئندہ سال 630 میگا واٹ بجلی کی پیداوار بھی شروع ہو جائے گی۔

کراچی میں قائم کینوپ بجلی گھر گزشتہ چار دہائیوں سے ملک کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

ناقدین کی طرف سے پاکستان میں جوہری بجلی گھروں کی تعمیر پر یہ کہہ کر تحفظات اور خدشات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے کہ ان میں ہونے والی کوئی تکنیکی خرابی مقامی آبادی کے لیے ایک بہت بڑی آفت ثابت ہو سکتی ہے۔

لیکن توانائی کے بحران سے دوچار ملک کے عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں کہ ان بجلی گھروں کو ہر ممکن حد تک محفوظ بنایا گیا ہے۔

وزیراعظم نے بھی جمعرات کو اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں جوہری توانائی کا ادارہ "پاکستان اٹامک انرجی کمیشن" تمام جوہری بجلی گھروں میں حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔

"اور پاکستان نیوکلیئرریگولیٹری اتھارٹی، پہلے سے قائم شدہ اور نئے لگائے جانے والے پلانٹس کی کڑی نگرانی کر رہا ہے تاکہ دنیا کے مروجہ حفاظتی قوانین کے مطابق تمام ایٹمی بجلی گھروں کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ پی این آر اے کے اقدامات سے آئی اے ای اے پوری طرح آگاہ اور مطمیئن ہے۔"

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انھیں ادراک ہے کہ اب بھی عوام کو بجلی کی بندش جیسے مسائل کا سامنا ہے لیکن ان کی حکومت توانائی کے بحران کو حل کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر ہی ہے جس سے گزشہ دو سالوں میں ماضی کی نسبت اس شعبے میں خاصی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG