رسائی کے لنکس

چینی وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان میں صحت، تعلیم اور پینے کے صاف پانی کے منصوبوں میں تعاون کرنے اور گوادر میں فراہم کی جانیوالی سہولتوں میں مزید اضافہ کرے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کے علاوہ سائیڈ لائن کی اپنی سرگرمیوں کے سلسلے میں چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ پاک چین تعلقات ایک نیا موڑ لے چکے ہیں اور پاکستان اور چین "آئرن برادرز" ہیں۔ انھوں نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں پاکستانی مؤقف کو سمجھنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔

چینی وزیرِ اعظم لی کی چیانگ نے کشمیر کے تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے عالمی برادری مسئلہ کشمیر کو بہتر طور پر سمجھے گی اور انہوں نے یہ پیشکش کی کہ چین پاک بھارت تعلقات بہتربنانے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال کشیدہ نہیں ہو گی۔

چینی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کا ملک پاکستان میں صحت، تعلیم اور پینے کے صاف پانی کے منصوبوں میں تعاون کرنے اور گوادر میں فراہم کی جانیوالی سہولتوں میں مزید اضافہ کرے گا۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے ایرانی صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی جس میں جناب روحانی نے کہا کہ دونوں ملکوں میں دفاعی شعبے میں تعاون میں اضافے کی ضرورت ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ایران پر عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد پاکستان دو طرفہ تجارتی حجم کو دوگنا کرنا چاہے گا۔ ملاقات میں یہ بھی طے کیا گیا کہ ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت اور مزید توانائی منصوبوں کےلیےدو فوکل پرسن تعینات کیے جائیں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ گوادر اورچاہ بہار بندرگاہوں سے علاقائی تجارت میں بہت اضافہ ہوگا۔

نواز شریف نے بدھ کی شام اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون سے بھی ملاقات کی۔ پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جناب نواز شریف نے سیکرٹری جنرل کو کشمیرمیں بھارت فورسز کی طرف سے شہریوں کی مبینہ ہلاکت کے ثبوت دیے،" ریاستی دہشتگردی کے شکار بے گناہ لوگوں کی تصویریں دکھائیں اور گزشتہ74دنوں میں بھارتی کشمیر میں 100افراد کی ہلاکت، پیلٹ گنز کے استعمال اور ماورائے عدالت اموات کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔"

نواز شریف نے بھارتی کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے ثبوت بھی بان کی مون کو دیے اور کہا کہ بھارت کو سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعمل درآمد کا پابند بنایاجائے۔

XS
SM
MD
LG