رسائی کے لنکس

ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی: نواز شریف


وزیراعظم کی چین کے صدر سے ملاقات

وزیراعظم کی چین کے صدر سے ملاقات

پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری ہے اور بغیر کسی تفریق کے شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں دہشت گرد عناصر بشمول ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔

وزیراعظم پاکستان کے دفتر سے ہفتہ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اُنھوں نے یہ بات بیجنگ میں چین کے صدر ژی جنپنگ سے ملاقات میں کہی۔

پاکستانی وزیراعظم نے اپنے چینی ہم منصب لی کیچیانگ سے بھی ملاقات کی جس میں چین کی کمپنیوں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق چین پاکستان سے یہ کہتا رہا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے خلاف کارروائی کرے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون کو شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب میں کئی غیر ملکی دہشت گرد بھی مارے گئے، جن میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے جنگجو بھی شامل تھے۔

چین کا یہ الزام رہا ہے کہ اُس کے مسلمان اکثریت والے علاقے سنکیانگ میں بدامنی میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے جنگجو ملوث ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری ہے اور بغیر کسی تفریق کے شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

فوج کے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن میں حکام کے مطابق مارے جانے والے دہشت گردوں میں ایک بڑی تعداد ازبک جنگجوؤں کی بھی ہے۔

افغان سرحد سے ملحقہ ملک کے اس قبائلی علاقے میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کے علاوہ غیر ملکی شدت پسندوں نے بھی یہاں اپنے مراکز قائم کر رکھے تھے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے آبادی والے بیشتر علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا ہے اور اب مضافات میں کارروائی جاری ہے۔

فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں اب تک 1100 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جب کہ کارروائی کے بعد اس قبائلی علاقے سے چھ لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے جن کی اکثریت صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔

XS
SM
MD
LG