رسائی کے لنکس

مذاکراتی کمیٹی قوم کو اعتماد میں لے رہی ہے:وزیراعظم

  • افضل رحمان

وزیراعظم نواز شریف

وزیراعظم نواز شریف

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ مذاکرات کے بارے میں حکومت ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔

ایک ایسے وقت جب ملک میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات سے متعلق پاکستان کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا ایسی خبریں دے رہے ہیں جن میں مذکرات کی کوئی واضح سمت دکھائی نہیں دے رہی۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس موضوع پر کوئی تفصیلی گفتگو کرنے سے گریز کیا ہے۔

ہفتہ کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا۔

’’(سرکاری) کمیٹی بات کر رہی ہے، کمیٹیاں ایک دوسرے سے مل رہی ہیں اور کمیٹی کے ہمارے اراکین قوم کو بھی اعتماد میں لے رہے ہیں۔ میڈیا سے بھی باقاعدہ بات کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں ان تمام معاملات کو وہ ڈیل کر رہے ہیں۔ مجھے اس کے علاوہ اور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ مذاکرات کے بارے میں حکومت ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔

وزیراعظم کی میڈیا سے اس گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار خالد فاروقی کا وائس آف امریکہ سے کہنا تھا کہ حکومت بظاہر اب تک طالبان کے مطالبات سے پوری طرح آگاہ نہیں۔

’’جس طرح کی باتیں سامنے آئی ہیں اور بالخصوص جو آج بات سامنے آئی اس میں طالبان کی طرف سے یہ کہا گیا کہ وہ تو صرف نفاذ شریعت چاہتے ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق بات کرنا چاہتے ہیں اور وہ آئین کو مانتے ہی نہیں۔ یہ ایک مشکل صورتحال ہے حکومت کے لیے جو تمام تر دباؤ کے باوجود کہ (شدت پسندوں کے خلاف) آپریشن کیا جائے، مذاکرات کی طرف واپس آئی تھی۔‘‘

جمعرات کو حکومت کی تشکیل کردہ اور طالبان کے نامزد کردہ کمیٹیوں کے درمیان اسلام آباد میں پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی تھی جس میں ایک دوسرے کے تحفظات اور مطالبات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG