رسائی کے لنکس

شدت پسندوں سے مذاکرات کے فیصلے پر قائم ہیں:نواز شریف

  • شمیم شاہد

وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے ملک کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد شدت پسندوں سے مذاکرات کا جو متفقہ فیصلہ کیا تھا اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے دہشت گردی و انتہا پسندی کے مسئلے کو شدت پسندوں سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت کے مشترکہ فیصلے کے مطابق حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

جمعرات کو پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور ان کے بقول اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کسی واضح پالیسی کے نہ ہونے سے یہ معاملہ بے قابو ہوگیا۔

لیکن انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے ملک کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد شدت پسندوں سے مذاکرات کا جو متفقہ فیصلہ کیا تھا اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

’’حکومت چاہتی ہے کہ میز پر بیٹھ کر فیصلہ کیا جائے، حکومت خلوص نیت سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے اسی لیے کل جماعتی کانفرنس بلائی گئی اور اس میں مذاکرات کا جو متفقہ فیصلہ ہوا تھا ہم اس پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘

رواں ہفتے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتی جب کہ ملک کے مخلتف حصوں خصوصاً خیبر پختونخواہ میں تشدد کے حالیہ ہلاکت خیز واقعات کے بعد بعض مبصرین کی طرف سے مذاکرات کے حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا تھا۔

لیکن جمعرات کو پشاور کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے اپنے بیان سے ان تمام قیاس آرائیوں اور خدشات کو مسترد کردیا۔

انھوں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند ہونے چاہیئں۔ وزیراعظم کے اس بیان سے قبل طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود نے بھی کہا تھا کہ مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ڈرون حملے بند کروائے جائیں۔

وزیراعظم نے ان حملوں میں ملکی سالمیت و خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔

’’ یہ نہ صرف خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دنیا میں جو ہمارا مقام ہے اس کے لیے بھی تکلیف کا باعث ہیں، ہر ملک کا اپنا مقام ہے اپنا وقار ہے اپنی آزادی و خودمختاری ہوتی ہے اسے اس طرح ہرٹ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

وزیراعظم نے صوبے کے اعلیٰ حکومتی اور انتظامی عہدیداروں کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر سے نمٹنے کے لیے حکومت جلد ہی ایک خصوصی قانون متعارف کروا رہی ہے۔

’’آپ نے دیکھا ہے کہ کس طرح مجرم گرفتار ہوتے ہیں اور پھر عدم ثبوت کی وجہ سے رہا ہو جاتے ہیں، جج فیصلہ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، گواہ پیش نہیں ہوتے، انھیں سزائیں نہیں ہوتیں، تو پھر ایسی غیر معمولی صورتحال کے لیے قانون بھی غیر معمولی ہی ہونا چاہیے۔‘‘

دریں اثناء حالیہ ہفتوں میں پشاور میں ہونے والے ہلاکت خیز بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں نوازشریف نے متاثرین کے لیے 20 کروڑ روپے سے ایک ٹرسٹ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
XS
SM
MD
LG