رسائی کے لنکس

وزیراعظم کو بتایا گیا گزشتہ ماہ گرمی سے متاثرہ 65 ہزار افراد نے کراچی کے مختلف اسپتالوں سے رجوع کیا جن میں سے 1250 لو لگنے اور گرمی کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

وزیراعظم نواز شریف بدھ کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے دورے پر پہنچے جہاں وہ گزشتہ ماہ شدید گرمی سے ہونے والے جانی نقصان اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ ملک کے اقتصادی مرکز میں امن و امان سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔

ساحلی شہر کراچی میں 19 جون سے شروع ہونے والا شدید گرم موسم بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی باعث بنا اور اس دوران بہت سے انتظامی معاملات میں سقم بھی کھل کر سامنا آیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم کو بتایا گیا گزشتہ ماہ گرمی سے متاثرہ 65 ہزار افراد نے کراچی کے مختلف اسپتالوں سے رجوع کیا جن میں سے 1250 لو لگنے اور گرمی کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

وزیراعظم نے انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "پورا ملک متاثرین کے دکھ کی اس گھڑی میں ان سے اظہار ہمدردی کرتا ہے۔"

بیان کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ اور ایسے تمام محکمے جن کی غفلت کی وجہ سے عوام کی تکالیف میں اضافہ ہوا، شفاف انداز سے تحقیقات کر کے ان سے جواب طلبی کی جانی چاہیے۔

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے وزیراعظم کو شدید گرمی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی اور اس ضمن میں سندھ حکومت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔

گرمی کی شدت کے علاوہ اس دوران بجلی کی طویل بندش اور بعض علاقوں میں عدم دستیابی نے بھی کراچی کے عوام کا جینا دو بھر کیے رکھا۔

کراچی کو بجلی فراہم کرنا ایک نجی کمپنی "کے الیکٹرک" کے ذمے ہے جس موقف ہے کہ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی جب کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ شدید گرم موسم میں بجلی کی طلب اور رسد میں بڑھ جانے والا فرق ہے۔

حکومت کے علاوہ افواج پاکستان کی طرف سے بھی کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں گرمی سے متاثرہ افراد کو طبی امداد دینے کے لیے مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG