رسائی کے لنکس

غیرت کے نام پر قتل کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں: وزیراعظم


شرمین کی دستاویزی فلم کو آسکر ایوارڈ کے لیے نامزدگی حاصل ہوئی ہے

شرمین کی دستاویزی فلم کو آسکر ایوارڈ کے لیے نامزدگی حاصل ہوئی ہے

شرمین عبید چنائے نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے خاتمے سے متعلق قانون سازی میں وزیراعظم مدد کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اینٹی آنر کرائم بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کے لیے مزید آواز بلند کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ملک سے "غیرت کے نام پر قتل" جیسی برائی کو ختم کرنے کے لیے مناسب قانون سازی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ بات انھوں نے آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے کو بھیجے گئے ایک تہنیتی پیغام میں کہی جن کی ایک اور دستاویزی فلم کو 88 ویں آسکر ایوارڈ کے لیے نامزدگی حاصل ہوئی ہے۔

شرمین کی دستاویزی فلم "اے گرل ان دا ریوور: دی پرائس آف فورگوونس" غیرت کے نام پر قتل سے متعلق بنائی گئی ہے اور ایک ایسی لڑکی کی کہانی کے گرد گھومتی ہے جسے اس کے رشتے داروں نے غیرت کے نام پر اپنے تئیں قتل کر کے دریا میں پھینک دیا تھا لیکن وہ زندہ بچ جانے میں کامیاب رہی۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں شرمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فلم کا موضوع پاکستانی معاشرے کے لیے بہت اہم ہے اور ان کے بقول غیرت کے نام پر قتل جیسی خرابی کو دور کرنے کی حکومتی کوششوں میں یہ فلم مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

شرمین عبید چنائے نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے خاتمے سے متعلق قانون سازی میں وزیراعظم مدد کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 'اینٹی آنر کرائم' بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کے لیے مزید آواز بلند کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ مسودہ قانون ایوان بالا "سینیٹ" سے منظور ہو چکا تھا لیکن قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے بعد اس پر کوئی خاطر خواہ عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

شرمین عبید 2012ء میں اپنی دستاویزی فلم "سیونگ فیس" پر بھی آسکر ایوارڈ جیت چکی ہیں۔ یہ فلم تیزاب گردی کا شکار ہونے والی خواتین سے متعلق تھی۔

پاکستان میں غیرسرکاری تنظیموں کے اندازوں کے مطابق ایک ہزار سے زائد خواتین ہر سال غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں اور اکثر دباؤ یا پھر دیت کے قانون کے تحت متاثرہ خاندانوں سے راضی نامہ کر کے اس میں ملوث افراد سزا سے بچ جاتے ہیں۔

غیرت کے نام پر قتل کے زیادہ تر واقعات ان علاقوں سے رپورٹ ہوتے ہیں جہاں اب بھی قبائلی نظام بہت مضبوط ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ایک غیرسرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیش کی عہدیدار ربیعہ ہادی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے قانون سازی سے متعلق بیان خوش آئند ہے لیکن ان کے بقول بیانات کے علاوہ بھی ٹھوس اور موثر اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ قانون سازی کے علاوہ اس ضمن میں معاونت کا طریقہ کار وضع کرنے پر بھی کام کیا جانا چاہیئے۔

ربیعہ کا کہنا تھا کہ اب بھی غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی میں مختلف حلقوں کی طرف سے مزاحمت موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG