رسائی کے لنکس

سرکاری و نجی شعبے میں 30 لاکھ سے زائد ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے اور کم از کم ماہانہ تنخواہ 15 ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان بھی منشور کا حصہ ہے۔

پاکستان کی منتخب اسمبلیاں اپنا پانچ سالہ دور مکمل کر رہی ہیں اور مئی میں متوقع انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں نے عملی میدان میں اترتے ہوئے اپنے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کرنا شروع کر دیا ہے۔ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے اپنی جماعت کے منشور کا اعلان کیا۔

انھوں نے ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کے حل میں ان کی جماعت ایک تاریخی کردار ادا کر سکتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے منشور کے مطابق صنعت و تجارت کے شعبے میں ملک میں مصنوعات سازی کے فروغ اور تمام برآمدات پر سیلز ٹیکس معاف کر دینے کا اعلان کیا۔ انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے کے لیے ادارے قائم کرنے اور انھیں مالی وسائل دینے کا نکتہ بھی منشور میں شامل ہے۔

ملک میں روزگار کے مواقع، کم آمدنی والے طبقے کے لئے رہائش اور ٹیکس اصلاحات پر زور دیتے ہوئے منشور میں ملک میں توانائی کے بحران کے لئے اور ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی یعنی زراعت کے شعبے کو بھی بڑی اہمیت دی گئی۔

مسلم لیگ (ن) کے نئے انتخابی منشور میں خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور اقلیتوں کے حقوق کی بات بھی کی گئی۔

سرکاری و نجی شعبے میں 30 لاکھ سے زائد ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے اور کم از کم ماہانہ تنخواہ 15 ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان بھی منشور کا حصہ ہے۔

منشور میں کہا گیا کہ نئے ’سی این جی‘ اسٹیشنز پر پابندی لگائی جائے گی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو گیس کی فراہم میں اولیت دی جائے گی۔

پاکستان کو درپیش توانائی کے بحران کے حوالے سے منشور میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر دو سالوں کے دوران لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دے گی۔
XS
SM
MD
LG