رسائی کے لنکس

نمونیہ سے بچاؤ کی نئ دواسےپاکستان میں شرح اموات میں65 فیصد کمی متوقع


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دنیا بھر میں نمونیہ سے بچاؤ کا عالمی دن 12 نومبر کومنایا جاتا ہے جس کا مقصد اس بیماری سے بچاؤ اوراس کے علاج سے متعلق لوگوں میں آگاہی بڑھا کرانسانی جانوں کو بچانے کی کوششوں کو مزید موثر بنانا ہے۔

قومی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال دس لاکھ سے زائد افراد نمونیہ کا شکار ہوتے ہیں اور ایک لاکھ پینتیس ہزار مریض اس بیماری سے جانبر نہیں ہوپاتے جن میں بڑی تعداد پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔

عالمی دن کی مناسبت سے اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت میں ہفتہ کو منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں ادارے کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر الطاف بوسن نے کہا کہ پاکستان میں آئندہ سال مارچ سے نمونیہ سے بچاؤ کی ایک جدید ویکسین متعارف کرائی جارہی ہے جس کے بعد اس بیماری سے ہونے والی اموات میں 65 فیصد کمی واقع ہوسکے گی۔

ملک بھر میں بچوں کو دی جانے والی اس ویکیسین کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ہر سال پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً تین کروڑ بیس لاکھ بچوں جن میں ایک سال تک کی عمر کے پچاس لاکھ بچے بھی شامل ہیں یہ ویکسین دی جائے گی۔

نمونیہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان خصوصاً بچوں کے پھیپھڑوں میں انفیکشن یعنی جراثیم پھیل جاتے ہیں اور بروقت علاج نہ ہونے سے بچے کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

نمونیے سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کی حکومت اس مرض کے انسداد کے لیے پرعزم ہے اس مقصد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلوبل الائنس آف ویکسینز اینڈ امیونائزیشن یعنی گاوی سے 68 کروڑ ڈالرز کی امداد کے حصول میں کامیابی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے پاکستان میں نمونیے سے بچاؤ کے مربوط انتظامات کیے جارہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG