رسائی کے لنکس

اردو کی معروف شاعرہ ادا جعفری انتقال کر گئیں


Ada-Jafarey

Ada-Jafarey

ادا جعفری کی ایک غزل جسے استاد امانت علی خان نے گایا اور یوں یہ غزل شاعرہ اور گائیک دونوں کی خاص پہچان ٹھہری۔ "ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرے نام ہی آئے۔۔۔آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے"۔

اردو شعر و ادب کی پہلی مقبول شاعرہ تصور کی جانے والی ادا جعفری مختصر علالت کے باعث 90 برس کی عمر میں جمعرات کو دیر گئے کراچی میں انتقال کر گئیں۔

1924ء میں غیر منقسم برصغیر کے شہر بدایون میں پیدا ہونے والی ادا جعفری کا اصل نام عزیز جہاں تھا۔

انھوں نے 12 سال کی عمر میں ادب میں دلچسپی لینا شروع کی اور اپنے لیے ادا بدایونی کا قلمی نام منتخب کیا۔

جنوری 1947ء میں ان کی شادی نور الحسن جعفری سی ہوئی جو کہ ہندوستان میں ایک سرکاری افسر تھے اور تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے شوہر کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوگئیں۔

اردو شاعری میں غزل کے علاوہ آزاد نظم اور ہائیکو میں بھی ادا جعفری کی تخلیقات کو خاصی پذیرائی ملی۔

ان کی پہلی کتاب "میں ساز ڈھونڈتی رہی" 1950 میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد ان کی دیگر پانچ کتابیں بھی منظر عام پر آئیں۔

وہ خاص طور پر صنف نازک سے جڑے موضوعات کو ادب کی چاشنی میں تر کر کے تحریر کرنے میں خاصا عبور رکھتی تھیں۔

ان کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا کہ ''میں نے مردوں کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول نہیں کیا، بلکہ ان پابندیوں کو قبول کیا جو میرے ذہن نے مجھ پر عائد کی ہیں۔۔۔میں سمجھتی ہوں کہ بات کو بین الستور کہنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ رمز وکنایہ بھی تو شاعری کا حسن ہے۔"

ادا جعفری کی ایک غزل جسے استاد امانت علی خان نے گایا اور یوں یہ غزل شاعرہ اور گائیک دونوں کی خاص پہچان ٹھہری۔

"ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرے نام ہی آئے۔۔۔آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے"۔

ادا جعفری کو 1981ء میں حکومت پاکستان نے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا جب کہ ان کی ادبی تخلیقات پر معتبر "آدمی جی ایوارڈ" بھی حاصل کر چکی تھیں۔

XS
SM
MD
LG