رسائی کے لنکس

1999ء سے ہر سال 21 مارچ عالمی سطح پر شاعری کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد ادب کی اس صنف کی تعلیم وترویج کرنا ہے۔

لیکن پاکستان کی معروف سخن ور کشور ناہید کا کہنا ہے کہ یہ دن ذوق وشوق رکھنے والوں کے لیے تو اہمیت رکھتا ہے مگر اس کا گوہر مقصود جب ہی ہاتھ آئے گا کہ اس بابت عملی اقدامات کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں شاعری کا شوق تو بہت ہے لیکن سخن کو سمجھنے والوں کی تعداد کم ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے غالب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’ وہ کہتے تھے کہ سخن کہنا اور بات ہے، سخن کو سمجھنا اور بات‘‘۔ کشور ناہید کہتی ہیں کہ وہ ناامید نہیں کیونکہ سمجھنے والے بھی آہستہ آہستہ ہی پیدا ہوتے ہیں۔’’چار ہزار لوگ بیک وقت شعر سمجھ جائیں تو وہ کوئی شعر نہیں ہوتا۔‘‘

شاعری کے عالمی دن کے موقع پر مرتب کردہ اس رپورٹ کی تفصیل سنیئے:

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG