رسائی کے لنکس

عمران خان کی سیاسی جماعت کی مقبولیت میں کمی


نواز شریف اور عمران خان (فائل فوٹو)

نواز شریف اور عمران خان (فائل فوٹو)

مسلم لیگ کے قائدین اور پالیسیوں پر عمران خان کی تنقیدی مہم ابتدا میں موثر ثابت ہوئی مگر نواز شریف کی جماعت اس وقت ملک کی مقبول ترین پارٹی ہے۔

عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِِ انصاف (پی ٹی آئی) کی عوامی مقبولیت میں 22 فیصد کمی جبکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں تین اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ انکشاف امریکہ میں قائم انٹرنیشنل رپبلیکن انسٹیٹیوٹ (آئی آر آئی) نے اپنی ایک تازہ جائزہ رپورٹ میں کیا ہے۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور اس کی پالیسیوں پر عمران خان کی تنقیدی مہم ابتدا میں موثر ثابت ہوئی مگر نواز شریف کی سیاسی جماعت اس وقت پاکستان کی مقبول ترین پارٹی ہے۔

اس عوامی جائزے میں ممکنہ رائے دہندگان سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر قومی اسمبلی کے انتخابات آئندہ ماہ منعقد کیے جائیں تو وہ کس کے حق میں ووٹ دیں گے۔

آئی آر آئی کے مطابق 28 فیصد افراد مسلم لیگ (ن) جبکہ 24 فیصد پی ٹی آئی کو ووٹ دینے پر متفق تھے۔

عمران خان

عمران خان

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی 14 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے حق میں صرف تین فیصد لوگوں نے ووٹ دیا۔

عمران خان نے آئی آر آئی کے سروے کے اعداد وشمار کو رد کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی عوامی مقبولیت میں کمی کا اعتراف کیا ہے مگر اُن کے بقول یہ شرح صرف ’’دس فیصد‘‘ ہے۔



اسلام آباد میں ایک ہفتہ کے روز بلوچ سیاسی رہنما سردار اختر مینگل کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ بدظن رائے دہندگان نے کسی دوسری سیاسی جماعت کا رُخ نہیں کیا اور پی ٹی آئی جلد اس رجحان کا رُخ موڑنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

’’تحریکِ انصاف سے منحرف ہونے ہونے والے دس فیصد ووٹرز کسی اور پارٹی میں نہیں گئے بلکہ فیصلہ نا کرنے کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ میرا یہ پورا یقین ہے کہ انشااللہ جب ہم پارٹی کا الیکشن کروالیں گے، یہ (مقبولیت کی شرح) بہت اُوپر جائے گی کیونکہ لوگ تبدیلی کا فیصلہ کربیٹھے ہیں۔‘‘

آئی آر آئی نے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے حوالے سے آخری مرتبہ اپنی جائزہ رپورٹ فروری 2012ء میں مرتب کی تھی۔

پی ٹی آئی کی مقبولیت میں زوال کی وجہ پارٹی کے اندرونی جھگڑے، روایتی سیاست دانوں کی شمولیت اور ساتھی رہنماؤں کو آگے آنے کی اجازت دینے میں عمران خان کی ہچکچاہٹ بتائی گئی ہے۔

مزید برآں آئی آر آئی کے سروے کے مطابق 90 فیصد لوگوں کو یقین ہے کہ پاکستان غلط سمت میں پیش رفت کر رہا ہے، جبکہ اُن کے خیال میں بجلی کا بحران اور افراط زر ملک کو درپیش مسائل میں سب سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔
XS
SM
MD
LG