رسائی کے لنکس

پی پی پی کے عوامی جلسے پر مہلک حملے کی تفتیش جاری


صدر زرداری نے واقعے کے ذمہ داران کی جلد گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔

صدر زرداری نے واقعے کے ذمہ داران کی جلد گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) عوامی جلسے پر فائرنگ میں اپنے کم ازکم چھ کارکنوں کی ہلاکت پر تمام مصروفیات معطل کر کے پیر کو سوگ منارہی ہے۔

جنوبی صوبہ سندھ میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ایک عوامی جلسے پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں جماعت کے کم ازکم چھ کارکنوں کی ہلاکت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات جاری ہیں۔

پی پی پی اس مہلک حملے کے بعد اپنی تمام مصروفیات معطل کرکے پیر کو سوگ منارہی ہے۔

اندرون سندھ میں خیر پور کے گاؤں جانوری گوٹھ میں اتوارکی رات عوامی جلسے پر فائرنگ کے اس واقعہ میں ایک نجی ٹی وی چینل کا صحافی بھی ہلاک ہوگیا جبکہ 16 زخمیوں میں سات کی حالت تشویش ناک ہے اور ان میں بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندے شامل ہیں۔

مقامی پولیس نے تفتیش کےسلسلے میں متعدد مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا ہے تاہم ابھی تک اس حملے کے محرکات کے بارے میں حکام نے کوئی خیال آرائی نہیں کی ہے۔

اس جلسے سے رُکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے خطاب کرنا تھا جو سندھ کے وزیر اعلٰی قائم علی شاہ کی صاحبزادی ہیں۔ لیکن فائرنگ کا واقعہ اُن کی جلسہ گاہ میں آمد سے پہلے پیش آیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس افسران نے اس واردات کو جانوری برادری کے دو متحارب گروپوں کے بیچ دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے بعد نفیسہ شاہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سوچا سمجھا حملہ تھا اور کسی سیاسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا‘‘۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس واقعہ کے ذمہ داروں کو جلد سے جلد گرفتار کرنے اور فائرنگ میں ہلاک و زخمی ہونے والے کارکنوں کے لواحقین کو مناسب معاوضے ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پی پی پی کے عوامی جلسے پر فائرنگ کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب سندھ میں حال ہی میں نافذ کیے گئے نئے بلدیاتی نظام کے خلاف صوبے کی بالخصوص قوم پرست
جماعتیں گزشتہ کئی روز سے شدید احتجاج کررہی ہیں۔

ان جماعتوں کا الزام ہے کہ پیپلزپارٹی نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے ایم کیو ایم کے دباؤ میں یہ متنازع نظام متعارف کروا کے سندھ کی تقسیم کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے جو اُنھیں کسی طور قبول نہیں۔

لیکن پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے ان الزامات و خدشات کو مسترد کیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG