رسائی کے لنکس

شیخوپورہ: مسیحی جوڑے پر تشدد کے الزام میں دو افراد گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دوسری جانب پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے ایک عدالت نے ’نفرت انگیز‘ تقاریر پر ایک امام مسجد کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس نے توہین مذہب کے الزام میں ایک مسیحی جوڑے پر حملہ کرنے کے لیے لوگوں کو اکسانے پر دو مقامی مذہبی شخصیات کو گرفتار کر لیا ہے۔

رواں ہفتے پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے قصبے مکی میں پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے مذہبی جوڑے کو لوگوں کے تشدد سے بچایا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس جوڑے کو ایک اشتہاری ’شیٹ‘ ملی تھی جس پر تعلیم سے متعلق بعض پیغامات درج تھے اور اُنھوں نے وہ اشتہاری ’شیٹ‘ بطور بچھونے کے استعمال کرنی شروع کر دی تھی۔

مبینہ طور پر اس پینافلیکس شیٹ پر قرآن کی آیات کا ترجمہ بھی تحریر تھا اور اس کو بنیاد بنا کر گاؤں کے ایک حجام اور دو مذہبی شخصیات نے مسیحی جوڑے پر توہین مذہب کا الزام عائد کر دیا۔

پولیس کے مطابق گاؤں کے مشتعل لوگوں نے مسیحی جوڑے کو زبردستی گھر سے باہر نکال کر ان پر تشدد شروع کر دیا جس پر پولیس نے بر وقت مداخلت کر کے مسیحی جوڑے کو ہجوم سے چھڑوایا اور لاہور میں مسیحی عمائدین کے حوالے کر دیا۔

پولیس کے مطابق گاؤں کی دو مذہبی شخصیات کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے ایک عدالت نے ’نفرت انگیز‘ تقاریر پر ایک امام مسجد کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

بہاولپور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یہ سزا سنائی۔ ایک مقامی عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تحصیل حاصل پور کے گاؤں قائم پور میں مولانا عبدالغنی کو منافرت پر مبنی تقریر کرنے پر یہ سزا سنائی گئی۔

پولیس کے مطابق مولانا عبدالغنی کے خلاف یہ مقدمہ رواں سال 16 جنوری کو دائر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں بھی پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ایک امام مسجد کو اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی تقاریر کرنے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ سال 16 دسمبر کو پشاور کے ایک اسکول پر طالبان دہشت گردوں کے مہلک حملے میں 134 بچوں سمیت 150 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں انسداد دہشت گردی کا ایک قومی لائحہ عمل وضع کیا گیا تھا۔

جس کے تحت پاکستان بھر میں دہشت گردوں اور اُن کے معاونین کے خلاف کارروائی کے علاوہ نفرت انگیز تقاریر کرنے اور منافرت پر مبنی مواد کی اشاعت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

حال میں جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کرنے پر لگ بھگ 900 مقدمات درج کیے گئے جن میں سے بیشتر کا اندراج صوبہ پنجاب میں کیا گیا۔

سرکاری بیان کے مطابق نو سو سے زائد افراد کو منافرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جب کہ 70 ایسی دکانوں کو سیل کر دیا گیا جہاں سے ایسا مواد ملا جو اشتعال انگیزی پر مبنی تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں تاہم رواں ہفتے پاکستانی عدالت عظمیٰ کے ایک تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کی رفتار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG