رسائی کے لنکس

پاکستان میں ’سی آئی اے‘ کے سابق سربراہ کے خلاف مقدمہ خارج


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ڈرون حملوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے کریم خان کے وکیل شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔

پاکستان میں وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے قبائلی علاقے میں 2009ء میں ہونے والے ڈرون حملے میں مبینہ طور پر دو افراد کی ہلاکت پر امریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ کے پاکستان میں اُس وقت کے اسٹیشن چیف کے خلاف درج مقدمہ خارج کر دیا ہے۔

اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ کے انچارج محمد نواز بھٹی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مقدمہ ختم کرنے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ چونکہ واقعہ اسلام آباد کی حدود میں نہیں ہوا تھا اس لیے مقدمہ درج کرنے کے بعد ہی اسے خارج کر کے معاملہ قبائلی علاقوں (فاٹا) کے سیکرٹری کو بھجوا دیا گیا۔

"فاٹا سیکرٹری سے ہماری جون 2014ء سے خط و کتابت چل رہی تھی۔ عدالتی حکم پر رات کو ہم نے یہ مقدمہ درج کیا اور پھر اسے خارج کر دیا کیونکہ یہ (ڈرون حملہ) ہماری حدود میں نہیں ہوا۔ اب فاٹا سیکرٹری میں اگر کوئی واقعہ ہوا ہے تو اس پر جو کارروائی کرنا چاہیں وہ کریں۔"

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کریم خان نامی شخص نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ دسمبر 2009ء میں ہونے والے ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں ان کا بھائی اور بیٹا ہلاک ہو گئے تھے لہذا اسلام آباد میں سی آئی اے کے اُس وقت کے اسٹیشن چیف جوناتھن بینکس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

عدالت نے گزشتہ سال پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس معاملے پر قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

ادھر کریم خان کے وکیل شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ کریم خان کی طرف سے ’سی آئی اے‘ کے خلاف 50 کروڑ ڈالر کا دعویٰ دائر کرنے کا بھی کہا گیا تھا جس کے بعد جوناتھن بینکس 2010ء میں ہی پاکستان سے چلے گئے تھے۔

2004ء سے افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے ہواباز مشتبہ امریکی طیاروں سے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس میں القاعدہ کے متعدد عسکریت پسندوں سمیت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دو سربراہان بھی مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان ان حملوں کی اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ڈرون حملوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2010ء میں پاکستانی علاقوں میں 122 حملے ہوئے جب کہ 2014ء میں یہ تعداد 22 رہی۔

امریکہ ڈرون حملوں کو دہشت گردوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار گردانتا ہے لیکن رواں ماہ اس خبر کے منظرعام پر آنے کے بعد کہ جنوری میں شدت پسندوں کے ایک مشتبہ ٹھکانے پر ہونے والے ڈرون حملے میں ایک امریکی اور ایک اطالوی مغوی ہلاک ہوگئے تھے، ان کارروائیوں کے تیر بہدف ہونے پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG