رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ ملک کے قبائلی علاقوں سے ملحق صوبہ ہے اور یہاں اس سے قبل بھی پولیس افسروں اور اہلکاروں کو ہدف بنا کر قتل کیا جا چکا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں بدھ کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پولیس کے افسر کو ہلاک کردیا۔

پولیس حکام کے مطابق پشاور کے علاقے گلبہار میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس بہادر خان اپنی بیٹی کو کالج چھوڑنے کے لیے جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روک کر اس پر فائرنگ کی۔

فائرنگ سے بہادر خان شدید زخمی ہو گئے جب کہ گاڑی میں موجود ان کی بیٹی محفوظ رہیں۔

پولیس افسر کو اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ بہادر خان ان دنوں انسداد دہشت گردی کی فورس میں تعینات تھے اور انھیں کچھ عرصے سے نامعلوم شدت پسندوں کی طرف سے دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔

حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے جب کہ پولیس نے جائے وقوع سے شواہد جمع کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ذرائع ابلاغ کو بھیجی گئی ایک ای میل میں ڈی ایس پی بہادر خان کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیبر پختونخواہ ملک کے قبائلی علاقوں سے ملحق صوبہ ہے اور یہاں اس سے قبل بھی پولیس افسروں اور اہلکاروں کو ہدف بنا کر قتل کیا جا چکا ہے۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے رواں سال ہی یہاں خصوصی فورس بھی تشکیل دی گئی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔

پولیس حکام ایسے ہلاکت خیز واقعات کو دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جاری کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔

ادھر گورنر خیبرپختونخواہ مہتاب احمد خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امن و امان کو بحال کرنے کے لیے ان کے بقول ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG