رسائی کے لنکس

سال 2011ء کی پولیو کے خلاف پہلی ملک گیر مہم کا آغاز


سال 2011ء کی پولیو کے خلاف پہلی ملک گیر مہم کا آغاز

سال 2011ء کی پولیو کے خلاف پہلی ملک گیر مہم کا آغاز

وزارت صحت کے مطابق 2010 میں پولیو نے ملک بھر میں لگ بھگ 134بچوں کو متاثر کیا جن میں سے اکثرکا تعلق تشدد اور عسکریت پسندی سے متاثرہ فاٹا سے ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 1994 ء میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیوکے قطرے پلانے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ جب اس مہم کا آغاز کیا گیا تو اس وقت ملک میں سالانہ30 ہزار بچے پولیو سے مفلوج ہو رہے تھے ۔

ہفتے کو سال 2011ء کی پولیو کے خلاف پہلی ملک گیر مہم کا آغاز کیا گیا اور اس بارے میں اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ بلاشبہ ایک بڑا چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے سب کو مل کرنئے جذبے اور عزم کے ساتھ کوششیں کرنا ہوں گی۔

تین روزہ ملک گیر مہم میں پاکستان میں بسنے والے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت نے ملک میں پولیو کے خاتمے کے لیے بھرپور مہم کا آغاز کر رکھا ہے کیوں کہ پاکستان میں حالیہ سالوں میں پولیو کے شکاربچوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے۔

وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ سب کو مل کر نئے جذبے اور عزم کے ساتھ اس بیماری اور معذوری کے خلاف کوششیں کرنا ہوں گی۔

حالیہ سالوں کے دوران 2010 ء میں پاکستان میں پولیو کے زیادہ کیس سامنے آئے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات میں جولائی 2010ء میں حالیہ سیلاب کے علاوہ قبائلی علاقوں سمیت بعض دیگر اضلاع میں سلامتی کی خراب صورت حال کے باعث پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے والی ٹیموں کو بچوں تک رسائی میں دشواریاں تھیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں سلامتی کی صورت حال کے باعث پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی وہاں تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اُن کے بقول قبائلی علاقوں کی انتظامیہ بھی اس کوشش میں مصروف ہے کہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کر کے اُن تک پہنچا جا سکے ۔

وزارت صحت کے مطابق 2010 میں پولیو نے ملک بھر میں لگ بھگ 134بچوں کو متاثر کیا جن میں سے اکثرکا تعلق تشدد اور عسکریت پسندی سے متاثرہ فاٹا سے ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 1994 ء میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیوکے قطرے پلانے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ جب اس مہم کا آغاز کیا گیا تو اس وقت ملک میں سالانہ30 ہزار بچے پولیو سے مفلوج ہو رہے تھے ۔

پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اس بیماری کے خلاف دنیا میں سب سے بڑی مہم چلانے والی تنظیم بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاوٴنڈیشن نے بھی پاکستان میں پولیو کے انسداد کی مہم میں حصہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے جب کہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی نے بھی پاکستان میں بچوں کو پولیو اور خسرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے حال ہی میں 56 لاکھ ڈالر سے زائد کی اعانت فراہم کی ہے۔

XS
SM
MD
LG