رسائی کے لنکس

انسداد پولیو ٹیموں کی قبائلی علاقوں تک محدود رسائی باعث تشویش


عالمی ادارہِ صحت نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انسداد پولیو مہم کے دوران ٹیموں کی ہزاروں بچوں تک عدم رسائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف حالیہ فوجی آپریشنز کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں پولیو پروگرام کے اعلیٰ عہدے دار ڈاکٹر نیما عابد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں، خصوصاً خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں پولیو کے خلاف مہم کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیوں کہ پورے ایشیا میں یہ ہی وہ علاقہ ہے جہاں پی تھری نامی قسم کا پولیو وائرس نشو و نما پا رہا ہے۔

’’اگر 10 فیصد بچے بھی پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے رہ جائیں تو یہ ہمارے لیے خطرناک شرع ہے۔‘‘

انسداد پولیو کی قومی مہم کی سربراہ شہناز وزیر علی نے کہا کہ سلامتی کی خراب صورت حال اور سماجی عوامل کے باعث وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اب بھی 35 فیصد سے زائد بچوں تک پولیو ٹیمیں نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ محتاط اندازوں کے مطابق قبائلی علاقوں میں اب بھی پانچ سال سے کمر عمر لگ بھگ 70 ہزار بچے ایسے ہیں جنھیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے ہیں۔

شہناز وزیرعلی
شہناز وزیرعلی

لیکن شہناز وزیر علی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی مدد سے اس خطے میں چلائی جانے والی انسداد پولیو مہم سے گزشتہ تین سالوں کے دوران صورت حال میں قدرے بہتری آئی ہے۔ ’’جہاں بھی ہمیں رسائی ملتی ہے فاٹا میں وہاں (پولیو سے بچاؤ کے) قطرے پلانے والی ٹیمیں چلی جاتی ہیں، فوج کے ہمراہ۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ تمام قبائلی علاقوں کے داخلی و خارجی راستوں پر خصوصی کیمپ بنائے گئے ہیں جہاں نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

پاکستان کا شمار اب دنیا کے ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں جسمانی معذوری کا باعث بننے والا پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔

حالیہ مہینوں میں اس وائرس کے خلاف سرکاری کوششوں میں تیزی کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہ صحت نے بھی انسداد پولیو کی مہم کو تیز کر رکھا ہے۔

حال ہی میں ڈبیلو ایچ او نے معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی تنظیم کے ساتھ مل کر یہ مہم چلانے کا اعلان کیا ہے جس سے ملک کے ان علاقوں تک بھی پہنچنے میں مدد ملے گی جہاں پہلے رسائی ممکن نہیں تھی۔

XS
SM
MD
LG