رسائی کے لنکس

پیر کو باجوڑ ایجنسی میں انسداد پولیو ٹیم پر اس وقت حملہ کیا گیا جب اس میں شامل رضا کار علاقے میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں مصروف تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیم کی حفاظت پر معمور لیویز اہلکار کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

قبائلی انتظامیہ میں شامل عہدیداروں کے مطابق پیر کو باجوڑ ایجنسی میں انسداد پولیو ٹیم پر اس وقت حملہ کیا گیا جب اس میں شامل رضا کار علاقے میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں مصروف تھے۔

اس قبائلی علاقے میں لگ بھگ دو لاکھ 20 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم شروع کی گئی تھی۔

ملک کے مختلف حصوں خاص پر شمالی مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ اور کراچی میں اس سے قبل بھی انسداد پولیو کی ٹیموں پر مہلک حملے ہو چکے ہیں جو خواتین رضا کاروں سمیت لگ بھگ ایک درجن افراد کی ہلاکت کا سبب بنے۔

افغانستان اور نائیجیریا کے علاوہ پاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں جسمانی معذوری کا سبب بننے والا پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔

پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر مہلک حملوں کے بعد حکومت نے رضا کاروں کی حفاظت پر پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG